رسائی کے لنکس

پاکستان میں قائم عسکری تنظیموں پر امریکی کانگریس کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں سماعت


پاکستان میں قائم عسکری تنظیموں پر امریکی کانگریس کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں سماعت

پاکستان میں قائم عسکری تنظیموں پر امریکی کانگریس کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں سماعت

گزشتہ سال ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کلعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کا نام پھر سے ذراع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنا۔ ان حملوں کے بعد اب تک ہونے والی تفتیش میں بھارت لشکرِ طیبہ کو اس واقع کا ملزم ٹہراتا ہے۔ بھارت اور امریکہ کی مشترکہ تحقیق میں ایک سابق پاکستانی ڈپلومیٹ کے امریکی بیٹے ڈیوڈ ہیڈلی کو شکاگو سے گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد امریکہ میں اس تنظیم کے نیٹ ورک کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ اس تنظیم اور پاکستان میں مسلح تنظیموں کے حوالے سے کانگریس کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں ایک ہیرنگ کا انعقاد کیا گیا ۔

سماعت میں امریکہ کے مختلف تھنک ٹینکس سے تعلق رکھنے والے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ماہرین نے شرکت کی۔ کانگریس کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیر مین گیری ایکر مین نے اپنے ابتدائی کلمات میں اس بات کا عندیہ دیا کہ لشکر طیبہ اپنے نیٹ ورک اور آپریشنز کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اور اسے پاکستان میں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔

چیئر مین کا کہنا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے شہروں اور دیہاتوں میں لشکرِ طیبہ کے تقریباً دو ہزار دفاتر ہیں۔اس کے پاکستانی فوج کے ساتھ بھی روبط قائم ہیں۔اس بات کو سچ نہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں کہ پاکستانی فوج ان دہشت گردوں کے خاندانوں کو مالی مدد دے رہی ہے جو ممبئی حملوں میں مارے گئے۔یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اتحادی ہیں۔

کمیٹی کے ایک ممبر کانگریس مین ڈین برٹن کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کر کے لشکرِ طیبہ اور اس طرح کی دیگر مسلح تنظیموں کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کشمیر کے مسئلے اور پنجاب پر کئی برسوں سے کام کر رہا ہوں ۔ اور میرا خیال ہے کہ ہم یہ مسئلہ اس وقت تک حل نہیں کر سکتے جب تک پاکستان اور بھارت اکٹھے نہ بیٹھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ دونوں ملک کشمیریوں کو ان کا حقِ رائے دہی دینے کے لیے کیا کر سکتے ہیں ،وہ حق جس کا ان سے 1940 ءکی دہائی میں وعدہ کیا گیا تھا۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں اور کشمیریوں کو ان مذاکرات میں شامل کر لیں تو میرا خیال ہے کہ ہم لشکرِ طیبہ کا ایک بڑا حصہ ختم کر سکتے ہیں جو بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

ہیرنگ میں شرکت کرنے والے تجزیہ کار مارون وائن بام کا کہنا تھا کہ لشکرِ طیبہ اپنے نیٹ ورک اور مہارت کی بنیا د پر القاعدہ کی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام میں عطیات اکٹھے کرنے کے لیے اس جماعت کی اہلیت القاعدہ سے زیادہ ہے۔ القاعدہ کے برعکس لشکرِ طیبہ کو معاشرتی حمائت اور حکومتی اداروں کی طرف سے تحفظ کا حاصل ہے۔ لشکرِ طیبہ عالمی سطح پر امریکی اور مغربی ریاستوں کے مفادات کے خلاف کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہیرنگ میں موجود دائیں بازو کے تھنک ٹینک ہیرٹیج فاونڈیشن کی تجزیہ کار لیسا کرٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کی سول حکومت لشکر طیبہ سمیت ملک میں کسی بھی مسلح جماعت کوکسی بھی قسم کی حفاظت یا سہولت فراہم نہیں کر رہی۔

اٹلانک کونسل کے اسکالر شجاع نواز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی عوام نے حکومت اور فوج پر دباو ڈالا ہے۔ اور فوج ملک کے اندر سے اٹھنے والے اس خطرے کو واضح طور پر پہچان چکی ہے۔ اس کا اظہار پاکستانی فوج کی طرف سے سوات اور فاٹا میں ہونے والے آپریشنز کی شکل میں سامنے آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG