رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں


دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

گیارہ ستمبر 2001ء کو نیو یارک اور واشنگٹن پر حملوں کے بعد سے امریکہ اور نیٹو میں شامل اس کے اتحادی القاعدہ سے منسلک دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اب تک اس لڑائی میں ان کے تقریباً 3,000 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ طالبان اور القاعدہ کے خلاف اس جنگ میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر بھی ایک محاذ کھلا ہوا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف اہم اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس لڑائی میں اپنائی گئی حکمت عملی کے کچھ پہلوؤں پر اگرچہ روز اول سے اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 سال سے جاری اس جنگ میں ہلاک و زخمی ہونے والے پاکستانی فوجیوں کی تعداد بین الاقوامی افواج کے مجموعی جانی نقصانات سے زیادہ ہے۔

پاکستانی فوج کے کیپٹن کلیم اللہ خان کا دستہ افغان سرحد سے ملحقہ مہمند ایجنسی میں ایک پہاڑی پر دفاعی چوکی قائم کرنے کی تیاری کر رہا تھا لیکن اس کوشش کے دوران اُن کا پیر ایک بارودی سرنگ پر پڑا جو طالبان نے وہاں بچھائی ہوئی تھی۔ کیپٹن کلیم اللہ کو اُسی لمحے پتہ چل گیا کہ دھماکے میں ان کا ایک پیر ضائع ہو چکا ہے جبکہ دوسرا پیر بھی اس بری طرح زخمی ہوا تھا کہ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں کو اُسے بھی کاٹنا پڑا۔

کیپٹن کلیم اللہ خان

کیپٹن کلیم اللہ خان

’’دراصل ہمیں اس پہاڑ کی چوٹی پر کہیں ایک چوکی قائم کرنی تھی جہاں سے ہم دشمن کو روک سکیں۔ یہ کام کرتے وقت میں زخمی ہو گیا۔ ہسپتال میں بے ہوش کیے جانے تک میں پوری طرح ہوش میں تھا۔‘‘

جنوری سے اب تک کیپٹن خان راولپنڈی میں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ریحیبلیٹیشن میڈیسن (اے ایف آئی آر ایم) میں زیر علاج ہیں۔ ہسپتال میں خصوصی تربیتی مراحل سے گزرنے کے بعد وہ پراعتماد ہیں کہ دونوں ٹانگوں سے محرومی کے باوجود وہ ایک نئی زندگی شروع کر سکیں گے۔

ایک ٹیکنیشن مصنوعی اعضا تیار کرتے ہوئے۔

ایک ٹیکنیشن مصنوعی اعضا تیار کرتے ہوئے۔

اس فوجی ہسپتال کے ڈائریکٹر، میجر جنرل اختر وحید، کہتے ہیں کہ یہاں نفسیاتی علاج کا بھی مکمل انتظام ہے، زخمیوں کو بولنا بھی سکھایا جاتا ہے، حتیٰ کہ مصنوعی اعضا بنانے کی ورکشاپ بھی موجود ہے۔

میجر جنرل اختر وحید

میجر جنرل اختر وحید

’’ہم نے یہاں ہزاروں مریضوں کا علاج کیا ہے، ہزاروں معذور لوگوں کو کام کے قابل بنایا ہے۔ آج کل ہمارے پاس اسپیشلسٹ ڈاکٹر اور ٹیکنیشین کچھ کم ہیں، لیکن ہم آہستہ آہستہ انھیں تربیت دے رہے ہیں۔ دو تین برسوں میں ہمارے پاس عملے کی کمی نہیں رہے گی۔‘‘

ہسپتال میں زیر علاج پاکستانی فوجی نائک اعظم اس وقت زخمی ہوئے جب کرم ایجنسی میں طالبان نے گھات لگا کر اچانک اُن کے قافلے پرا حملہ کر دیا، اور ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگنے سے اُن کا نیچے کا دھڑ مفلوج ہو چکا ہے۔

لیکن نائک اعظم کا کہنا ہے کہ وہ حوصلہ نہیں ہارے ہیں اور اس حالت میں بھی اپنے دیگر ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھیں اور اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

نائک اعظم

نائک اعظم

’’انشااللہ ایک دن ان تخریب کاروں کو شکست ہوگی اور بالآخر ہماری فوج اور ہماری حکومت اس جنگ میں فتحیاب ہوگی۔‘‘

پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ میں 2001ء سے اب تک پاکستانی فوج کے 13,000 سے زیادہ جوان ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,000 ہے۔ اِن میں کیپٹن بلال صنور بھی شامل ہیں جو جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے۔

کیپٹن بلال کی بہن لبنیٰ صنور کہتی ہیں کہ اُنھوں نے ایسے وقت میں وزیرستان میں تعیناتی کے لیے خود اپنی خدمات پیش کیں جب ان کی والدہ، شدید بیماری کے عالم میں ہسپتال میں داخل تھیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

’’والدہ کی بیماری اُس کے پیشہ وارانہ فرائض کی راہ میں بالکل آڑے نہیں آئی اور نہ ہی اُس کے چہرے پر کوئی پریشانی کے تاثرات تھے۔ وہ ایک نڈر اور حوصلہ مند افسر تھا اور اس نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔‘‘

کیپٹین بلال کے والد، چودھری محمد صنور، بھی فوج کے ایک سابق افسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے طالبان کو شکست دینے کا عزم کر رکھا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند عام لوگوں میں دہشت پھیلانے اور ملک کو کمزور کرنے کے لیے اسلام کا نام استعمال کر رہے ہیں۔

’’یہ لوگ اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ انتہائی بربریت سے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں، بموں کے دھماکے کر رہے ہیں، اور پاکستانی فوج سے لڑ رہے ہیں۔‘‘

25 سالہ کیپٹن عمر زیب لوئر دیر میں آپریشن راہ راست کے دوران عسکریت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوئے۔ اُن کے والد کرنل ریٹائرڈ محمد افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ 21 مئی 2009ء کو کیپٹن عمر زیب شدت پسندوں کے خلاف جاری ایک کارروائی میں اپنے فوجیوں کے دستے کی کمان کے لیے جا رہے تھے کہ پہلے سے نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی فوج کی قربانیاں

کرنل ریٹائرڈ محمد افضل کا کہنا ہے کہ اُن کے بیٹے نے ملک و قوم کے لیے جو قربانی دی اُس پر پورے خاندان کو فخر ہے ۔ ”ہم اُسے سر اُٹھا کر یاد کرتے ہیں۔ عمر زیب نے گولیوں کا سامنا کیا ، دشمن کا سامنا کیا اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ میرا بیٹا کئی نوجوانوں کے لیے مثال بنا اب جب ہم اپنے خاندان کے بچوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں کیا بننا چاہیں گے تو اُن کا جواب ہوتا ہے عمر زیب۔“

زخمی ہونے کے باوجود بھی پاکستانی فوج کے ان سپاہیوں کا کہنا ہے کہ مادرِ وطن کو انتہا پسندی اور پُر تشدد جارحیت سے نجات دلانے کے لیے وہ لڑنے کو تیار ہیں۔

کیپٹن کلیم اللہ خان کہتے ہیں کہ شدت پسندوں نے مقامی لوگوں پر جو ظلم و ستم کیے ہیں اُن کو دیکھنے کے بعد ہر کوئی ان ظالموں کو ختم کرنا چاہے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ لوگ ان مظالم کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہیں لیکن اُن کی اکثریت تشدد کے خطرے کے پیش نظر عسکریت پسندوں کے خلاف سرعام آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ البتہ کیپٹن کلیم اللہ نے کہا کہ پاکستانی فوج نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھیکنے کا عزم کر رکھا ہے۔

کیپٹن کلیم اللہ ایک نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں پُر امید ہیں

کیپٹن کلیم اللہ ایک نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں پُر امید ہیں

’’پہلے دن سے ہی میرا دل جوش و جذبے سے بھر پور ہے۔ میں پہلے کے مقابلے آج زیادہ پُر جوش ہوں۔ اگر میں ایک بار پھر چل سکوں، تو میں جنگ پر جانے سے بالکل نہیں ہچکچاؤں گا۔‘‘

راولپنڈی کے اے ایف آئی آر ایم فوجی ہسپتال میں زیرعلاج پاکستانی فوج کے زخمی سپاہی اپنی زندگیوں کو دوبارہ کارآمد بنانے کی جد و جہد میں مصروف ہیں۔ پاکستانی فوجی حکام پُراُمید ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑائی میں اب جو بہتر جنگی چالیں اختیار کی جا رہی ہیں ان سے دہشت گردی کے خلاف مہم میں فوج کے جانی نقصانات کی کمی متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG