رسائی کے لنکس

مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے: رانا ثنا اللہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اب تک جو معلومات انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ملی ہیں اس کی بنا پر مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تاکہ اگر پٹھان کوٹ معاملے سے ان کا تعلق ہوا تو انھیں گرفتار کیا جا سکے۔

پاکستان کے ایک صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے۔

صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی چینل "ڈان نیوز" کے ایک پروگرام میں بتایا کہ "مسعود اظہر کو انسداد دہشت گردی فورس نے حفاظتی تحویل میں لیا ہے۔"

اس بارے میں ان کا مختصراً کہنا تھا کہ "جو واقعہ پٹھان کوٹ میں ہوا اس میں ابھی تک جو معلومات انٹیلیجنس ایجنسیوں تک پہنچی ہیں اُن معلومات کے مطابق اگر آگے جا کر ان لوگوں کا تعلق اس سے جڑتا ہے تو انھیں اس مقدمے میں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس لیے ان لوگوں کو تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑے انھیں گرفتار کر لیا جائے۔"

بھارت نے رواں ماہ کے اوائل میں پاکستانی سرحد کے قریب اپنے ایک فضائی اڈے پر ہوئے دہشت گرد حملے سے متعلق معلومات پاکستان کو دی تھیں جس پر حکام کے بقول تحقیقات کی گئیں۔

شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس واقعے میں پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم جیش محمد کے لوگ ملو ث تھے اور بدھ کو حکام کے مطابق بعض گرفتاریوں کے علاوہ اس تنظیم کے دفاتر کا پتا لگا کر انھیں بند کیا جا رہا ہے۔

لیکن مسعود اظہر سے متعلق سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا اور جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی ان کی گرفتاری سے متعلق اطلاعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ نے مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق تو کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ بہاولپور اور سیالکوٹ میں جو مدارس بند کیے گئے ہیں ان کے خلاف ابھی صرف شک کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ یہ مدارس مسعود اظہر کے بھائی کے زیر انتظام تھے۔

پاکستان نے اس پٹھان کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جو بھارت جا کر فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تحقیق کرے گی۔ بھارت نے اس ٹیم کی تشکیل اور ممکنہ دورہ بھارت کا خیر مقدم کیا ہے۔

مسعود اظہر جیش محمد کے بانی ہیں جو طویل عرصہ تک بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس سے قبل مسعود اظہر شدت پسند تنظیم حرکت المجاہدین سے وابستہ تھے۔ 1994میں بھارت نے انہیں سرینگر سے گرفتار کیا تھا

1999 میں ایک بھارتی طیارہ اغوا ہونے کے بعد طیارے کی واپسی کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کے نتیجے میں احمد عمر شیخ اور مشتاق زرگر کے ہمراہ مسعود اظہر کو رہا کر دیا جس کے بعد وہ بھاگ کر پاکستان آ گئے اور جیش محمد کی بنیاد رکھی۔

پاکستان نے جیش محمد کو 2002 میں کالعدم قرار دے دیا تھا جبکہ اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اسے کالعدم قرار دے رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG