رسائی کے لنکس

نقل مکانی کرنے والے ہندو اور عیسائی خاندان بنوں میں مقیم

  • شمیم شاہد

اقلیتی برادری کے لوگ بنوں کے ایک اسکول میں مقیم ہیں

اقلیتی برادری کے لوگ بنوں کے ایک اسکول میں مقیم ہیں

نقل مکانی کر کے آنے والی ایک 70 سالہ ہندو خاتون جمیلہ کہتی ہیں کہ ان کے سسر انگریزوں کے وقت (برطانوی راج) سے شمالی وزیرستان سے آباد تھے اور انھوں نے اس قبائلی علاقے میں بہت اچھے دن دیکھے تھے۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں میں اقلیتی ہندو اور عیسائی برادری کے لوگ بھی شامل ہیں جن کے عارضی قیام کے لیے بنوں میں عیسائی برادری کے مذہبی رہنماؤں نے ایک اسکول میں انتظام کر رکھا ہے۔

بنوں کے پینل اسکول میں ہندو اور عیسائی برادری کے لگ بھگ 25 خاندان مقیم ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ میران شاہ میں برسوں سے مقیم تھے اور خود کو محفوظ تصور کرتے تھے۔ لیکن ان کے بقول شدت پسندوں کی کارروائیوں سے متعلق خبریں ان کے بچوں اور خود ان کے لیے تشویش کا باعث بنتی رہی ہیں۔

نقل مکانی کر کے آنے والی ایک 70 سالہ ہندو خاتون جمیلہ کہتی ہیں کہ ان کے سسر انگریزوں کے وقت (برطانوی راج) سے شمالی وزیرستان سے آباد تھے اور انھوں نے اس قبائلی علاقے میں بہت اچھے دن دیکھے تھے۔

"بہت اچھے وقت تھے وہ، آج تو یہ سب دیکھ دیکھ کر برا وقت ہے۔۔۔ڈر لگتا تھا وہاں ہر وقت کرفیو کرفیو، پھر نہ آٹا نہ چاول، چیزیں ختم ہونے لگیں، کچھ مل گیا تو کھا لیا نہ ملا تو بس ایسے ہی پڑے رہے، تو پھر ہم وہاں سے روانہ ہوکر یہاں آگئے۔"

ان کا کہنا تھا کہ نقل مکانی ان کے لیے ایک تکلیف دہ مرحلہ تھا اور وہ اپنے چھوٹے چھوٹے پوتے پوتیوں کے ساتھ ایک گھنٹے کا سفر 25 گھنٹوں میں طے کر کے یہاں پہنچیں۔

جمیلہ اب بھی شمالی وزیرستان کو یاد کرتی ہیں اور وہاں واپس جانے کی خواہش رکھتی ہیں۔

"وہاں بہت سال گزارے ہیں میں تو چاہتی ہوں کہ دوبارہ اپنا وطن نصیب ہو تو نصیب ہوگا تو ضرور واپس جائیں گے۔"

خالد اقبال کا تعلق عیسائی برادری سے ہے اور وہ بھی نقل مکانی کر کے بنوں پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی برادری کے کچھ خاندان کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ اور راولپنڈی بھی گئے ہیں۔

خالد کہتے ہیں کہ وہ لوگ شاید نقل مکانی نہ کرتے لیکن شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد دوسرے لوگوں کی طرح ان کے لیے بھی شمالی وزیرستان میں حالات ناسازگار ہو چلے تھے۔

"ہم لوگ تو وہاں چھاؤنی میں تھے ایسا کوئی خطرہ تو محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بازار میں چیزیں ختم ہونا شروع ہوگئیں ہمارے پاس بھی جو کھانے پینے کا سامان تھا وہ ختم ہونے لگا، دوسرا وہاں جو گولہ باری اور فائر وغیرہ ہوتے تو اس سے ہمارے ذہنوں پر بڑا اثر پڑتا کئی لوگ تو اپنا ذہنی توازن بھی کھو بیٹھے۔ تو بس اب بچوں کو لے کر یہاں بیٹھے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری بھی اس حق میں ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور وہ لوگ اپنے علاقوں کو واپس جا سکیں۔

XS
SM
MD
LG