رسائی کے لنکس

'غیر مسلم پاکستانیوں کو اقلیت نہ سمجھا جائے'


مسلم اکثریتی آبادی والے ملک پاکستان میں غیر مسلموں کی ایک قابل ذکر تعداد آباد ہے جس کی طرف سے اکثر و بیشتر امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ برائے 2015ء میں پاکستان میں مذہبی تعصب کے اسباب میں سے ایک وجہ تدریسی کتب میں دیگر مذاہب سے متعلق عدم رواداری جیسی مثالوں کو قرار دیا گیا ہے۔

ایک پاکستانی غیر سرکاری تنظیم "پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن" کے ذریعے مرتب کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں 78 درسی کتب میں مذہبی بنیاد پر عدم برداشت اور منافرت کی درجنوں مثالیں سامنے آئی ہیں۔

مسلم اکثریتی آبادی والے ملک پاکستان میں غیر مسلموں کی ایک قابل ذکر تعداد آباد ہے جس کی طرف سے اکثر و بیشتر امتیازی سلوک کی شکایات سامنے آتی رہتی ہیں۔

ہندو سکھ سوشل ویلفیئر کونسل کے صدر اور راولپنڈی میں ہندو برادری کے ایک سرکردہ رہنما جگموہن اروڑا کہتے ہیں کہ غیر مسلم پاکستانیوں کو درپیش بہت سے مسائل کی جڑ وہ نظریہ ہے جس کے تناظر میں دیگر مذاہب کے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا لیکن اس کے قیام کے بعد یہاں آباد غیر مسلموں کو بھی پاکستانی کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ان کے بقول ایسا حقیقی طور پر نہیں ہوسکا ہے۔

"آج بھی ہمیں دو قومی نظریے کی عینک سے دیکھا جاتا ہے اور یہ بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔۔۔جب آپ ایک لفظ اقلیت استعمال کرتے ہیں تو اس میں ہماری دھار علیحدہ ہو جاتی ہے، جمہوریت میں اقلیت اور اکثریت کا کوئی تصور نہیں ہوتا، برابری ہوتی ہے۔۔۔ہم غیر مسلم پاکستانی ہیں آپ ہمیں غیر مسلم پاکستانی کہیں۔"

گزشتہ تین دہائیوں کے دوران پاکستان میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر بہت سے ایسے ناخوشگوار واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے غیر مسلم پاکستانیوں کے علاوہ بعض مذہبی مسالک اور فرقوں سے تعلق رکھنے والوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

علاوہ ازیں انتہا پسندوں کی طرف سے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان میں آباد دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اقلیت نہیں کہا جانا چاہیے اور انھیں برابر کے حقوق دینے لیے اقدام کیے جانے چاہیئں۔

جگموہن اورڑا کے نزدیک نصاب تعلیم میں ضروری ترمیم کر کے بھی مذہبی رواداری کو فروغ دینے میں مدد لی جا سکتی ہے۔

"جو ہمارے ہاں نصاب تعلیم ہے اس میں جتنی جلدی تبدیلی لائے جائے گی اتنی تیزی سے معاشرہ اس طرف ترقی کرے گا۔ ہمیں ان سوچوں کو چھوڑنا ہوگا جس کی وجہ سے ہم مختلف خانوں میں بٹے ہوئے ہیں، ہمیں ایک سوچ پیدا کرنی ہے اور وہ ہے پاکستانیت کی سوچ۔"

موجودہ حکومت یہ کہہ چکی ہے کہ وہ پاکستان میں آباد کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو اس کے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے کے حق کو یقینی بنانے کے اقدام کر رہی ہے اور غیرمسلم آبادی کے تحفظات اور تشویش کو ہر ممکن طور پر دور کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG