رسائی کے لنکس

محض کپتان کی تبدیلی سے کوئی فائدہ نہیں: مصباح الحق


مصباح الحق (فائل فوٹو)

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وہ تو ایک سال پہلے ریٹائرمنٹ لے رہے تھے لیکن "قوم نے کہا کہ نہیں جی یہ ٹور کھیلنا ہے اب یہ کہہ رہے کہ خود شرم کرنی چاہیے چلے جانا چاہیے۔"

پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ قومی سطح پر کرکٹ کے مسائل حل کیے بغیر صرف کپتان بدلنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔

بدھ کو فیصل آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں ان مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر کرکٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی ضرورت ہے۔

"جس مرضی کو لے آئیں جب تک ہم اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے جو بھی کپتان ہو اس کو مسائل کا سامنا رہے گا۔۔۔آپ نے اپنی ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر کرنا ہے، آپ نے کھلاڑیوں کی تربیت کرنی ہے اگر ہم نے انگلینڈ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ میں اچھا کرنا ہے تو ہمیں ان (کھلاڑیوں) کو زیادہ سے زیادہ تجربہ دینا ہے وہاں کا۔"

پاکستان کی ٹیم حالیہ مہینوں میں پہلے نیوزی لینڈ اور پھر آسٹریلیا سے سیریز میں شکست کا سامنا کر چکی ہے جس کے بعد ٹیم کی خاصی تنقید کا سامنا ہے اور کئی حلقوں سے ٹیموں کے کپتان بدلنے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

مصباح الحق کا کہنا تھا کہ وہ تو ایک سال پہلے ریٹائرمنٹ لے رہے تھے لیکن "قوم نے کہا کہ نہیں جی یہ ٹور کھیلنا ہے اب یہ کہہ رہے کہ خود شرم کرنی چاہیے چلے جانا چاہیے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ "یہ ضروری نہیں آپ ہر سیریز میں پرفارم کریں، انسان کوشش کرتا ہے اس میں اچھا بھی ہوتا ہے برا بھی ہوتا ہے لیکن چھ سال آپ اچھا کرتے رہتے ہیں اور چار میچوں میں آپ سے اچھا نہیں ہوتا تو ہمارے نظریات بدل جاتے ہیں، مستقل مزاجی چاہیے ہماری قوم کی سوچ میں۔۔۔یہ مستقل مزاج نہیں ہے ایک میچ اور ایک اننگز کے بعد یہ بدل جاتی ہے تو جب تک یہ نہیں بدلے گی تو میرا خیال ہے ٹیم کی پرفارمنس بھی ایسی ہی رہے گی۔"

ٹیم سے متعلق فیصلوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصباح الحق نے کہا کہ اس شعبہ بورڈ اور اس کے تھنک ٹینک کا ہے اور وہ اس پر کوئی بات نہیں کریں گے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ مصباح الحق کی قیادت میں گزشتہ سال پاکستان کی کرکٹ ٹیم پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر سکی تھی۔

اس وقت پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے جب کہ ایک روزہ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

XS
SM
MD
LG