رسائی کے لنکس

سیکیورٹی اہلکاروں کو انسانی حقوق کی تعلیم دینے کی سفارش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا کہ مسلح افواج، انٹیلیجنس ایجنسیاں اور پولیس کے تمام تربیتی مراکز اپنے کورسز میں آئین اور انسانی حقوق سے متعلق معلومات بھی شامل کریں۔

پاکستان کی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے ملک میں لاپتا افراد کے معاملے کے حوالے سے منگل کو 15 سفارشات جاری کی ہیں جنہیں اب سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں منگل کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ سفارشات پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ کسی بھی شخص کی حراست آئین کے تحت ہونی چاہیئے۔ جب کہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمان اور عدلیہ کو اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنا چاہیئے۔

سفارشات میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحبان لاپتا افراد کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں تاکہ انھیں تیزی سے نمٹایا جا سکے۔

قومی سلامتی کی کمیٹی نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت گرفتار کیے جانے والے افراد کے بارے میں معلومات 24 گھنٹوں کے اندر درج کی جائیں اور اس کے لیے کمپوٹرائزڈ نظام وضع کیا جائے۔

مسلح افواج، انٹیلیجنس ایجنسیاں اور پولیس کے تمام تربیتی مراکز اپنے تربیتی کورس میں آئین اور انسانی حقوق سے متعلق معلومات بھی شامل کریں۔ جب کہ حکومت سے کہا گیا کہ وہ جیل اصلاحات کا بھی اعلان کرے۔

سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ضابطے میں لانے کے علاوہ حکومت سے کہا گیا کہ وہ لاپتا افراد کی رہائی اور بحالی کے علاوہ ان کے لواحقین کی معاونت کے بارے میں بھی پالیسی وضع کرے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق جج جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتا افراد کی بازیابی کے حوالے سے ایک کمیشن بھی قائم کر رکھا ہے۔ انسانی حقوق کی علم بردار تنظیموں اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں کے بقول مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں لوگوں کی جبری گمشدگی پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سنگین مسائل میں سر فہرست ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ یقیناً اہمیت کا حامل ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے جو لاپتا ہیں۔
XS
SM
MD
LG