رسائی کے لنکس

738 لاپتہ افراد کی نشاندہی ہو چکی ہے: وزیرِ دفاع


خواجہ محمد آصف

خواجہ محمد آصف

خواجہ آصف نے بتایا کہ اٹارنی جنرل نے فہرست چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ کے سامنے پیش کی ہے جس میں ان کے بقول بتایا گیا ہے کہ ’’وہ (لاپتہ افراد) کہاں ہیں اور کس کی قید میں ہیں‘‘۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ 738 لاپتہ افراد کو تلاش کر لیا گیا ہے جب کہ دیگر ایسے لوگوں کا معاملہ بھی آئندہ مہینوں میں حل کر لیا جائے گا۔

ان کا یہ بیان وزارت کا اضافی منصب سنبھالنے کے ایک ہی روز کے بعد جمعرات کو سامنے آیا جب وہ سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت میں پیش ہوئے۔ خواجہ آصف کے پاس اس سے پہلے صرف وزیر پانی و بجلی کا عہدہ تھا۔

عدالت کے احاطے کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ان افراد کی فہرست چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ کے سامنے پیش کی ہے جس میں ان کے بقول بتایا گیا ہے کہ ’’وہ (لاپتہ افراد) کہاں ہیں اور کس کی قید میں ہیں‘‘۔

’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے اور قانون کے تحت ان کے ساتھ سلوک کیا جائے ... لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے یا لوگوں کو اغواء کیا جاتا ہے۔ ماضی کے ایسے کسی اقدام کو ہماری حکومت برداشت نہیں کرے گی۔‘‘

لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل سے متعلق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’’اب سال نہیں لگے گیں۔ انشاءاللہ ہفتوں، مہینوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا‘‘۔

لاپتہ ہونے والے افراد کے لواحقین کا الزام ہے کہ انھیں ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا ہے لیکن سکیورٹی ادارے اس الزام کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG