رسائی کے لنکس

فوجی اداروں کی زیرحراست سات افراد عدالت میں پیش


ان افراد کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے

ان افراد کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے

پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس اداروں نے عدالت عظمیٰ کے حکم پر زیر حراست سات مشتبہ افراد کو پیر کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔

اہم فوجی اہداف پر دہشت گرد حملوں کے الزام میں گرفتار ان مشتبہ افراد کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے سامنے سخت حفاظتی حصار میں سپریم کورٹ لایا گیا۔

حکام نے ان مشتبہ نوجوانوں کے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور بظاہر خرابی صحت کے باعث انھیں چلنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ ان کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود متعلقہ حکام کو ان سب کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کی۔

اس مقدمے میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے وکیل راجہ ارشاد نے سماعت کے بعد وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مشتبہ افراد میں سے تین پارا چنار جب کہ چار پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج تھے اور عدالت کے حکم پر ان سب کو بلاتاخیر تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا گیا۔

’’اس کے بعد وہ تحویل اب ہمارے پاس نہیں ہے، نا آئی ایس آئی یا ایم آئی کے پاس۔ اب وہ خیبر پختونخواہ انتظامیہ کی تحویل میں ہیں۔ (عدالت نے) ہدایت کی ہے کہ ان کو باقاعدہ طبی سہولت فراہم کی جائے اور ہم (سے بھی پوچھا گیا) کہ ان کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا اور (زیر حراست) جو چار افراد ہلاک ہوئے ان کی اموات کی وجہ کیا تھی‘‘۔

زیرحراست مشتبہ افراد کے وکیل طارق اسد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں الزام لگایا کہ ان کے مؤکلین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تاہم انھوں نے عدالت کے فیصلے کو سراہا ’’ صوبہ خیبر پختونخواہ کے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیں اور چار دن کے اندر تمام کے بارے میں جو جو ان کو تکلیف ہے اس کے بارے میں ایک طبی رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرائیں‘‘۔

لیکن فوجی اداروں کے وکیل راجا ارشاد نے زیر حراست افراد پر تشدد کے الزام کی سختی سے نفی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا گیا جو قیدیوں سے کیا جاتا ہے۔

پیر کو عدالت عظمیٰ میں پیشی کے موقع پر زیرحراست افراد کی ان کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ کمرہ عدالت میں موجود ان میں سے ایک مبینہ شدت پسند مظہر الحق نے کہا کہ انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور کھانے کے لیے مناسب خوراک بھی نہیں دی جاتی۔

پاکستانی حکام نے 2009ء میں فوجی ہیڈکوارٹر اور آئی ایس آئی کی تنصیبات پر حملے کے شبے میں گیارہ افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن ٹھوس شواہد کی عدم دستیابی کے بعد ان مشتبہ افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے بری کردیا تھا۔ تاہم جوں ہی یہ لوگ اڈیالہ جیل سے رہائی پانے کے بعد باہر نکلے انھیں فوج کے خفیہ اداروں نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

دوران حراست ان میں سے چار افراد کی موت واقع ہونے کی اطلاعات منظر عام پر آنے کے بعد بعض زیرحراست افراد کے اہل خانہ کی درخواست پر سپریم کورٹ نے اس معاملے کا نوٹس لیا تھا۔ ایک بار پھر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نا صرف ان غیر قانونی حراستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا بلکہ یہ مطالبہ بھی کیا کہ سپریم کورٹ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے دیگر لاپتہ افراد کی برآمدگی کے لیے بھی حکم صادر کرے۔

XS
SM
MD
LG