رسائی کے لنکس

پاکستان تین مشنری ورکرز کے ویزے منسوخ کرنے کا حکم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جن تین فلپائنی مشنریز کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں ان میں سسٹر میرافلور اسلام آباد کانوینٹ سکول ایف ایٹ برانچ اور سسٹر ڈیلیا ایچ ایٹ برانچ کی پرنسپل ہیں، جبکہ سسٹر ایلزبتھ ایچ ایٹ برانچ میں فنانس افسر ہیں

پاکستان کی وزارت داخلہ نے امیگریشن اور پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک خط کے ذریعے حکم دیا ہے کہ وہ فلپائن سے تعلق رکھنے والی تین مشنری ورکرز کے ویزے منسوخ کر کے ان کو 15 دن کے اندر پاکستان سے چلے جانے کا حکم دے۔

جن تین فلپائنی مشنریز کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں ان میں سسٹر میرافلور اسلام آباد کانوینٹ سکول ایف ایٹ برانچ اور سسٹر ڈیلیا ایچ ایٹ برانچ کی پرنسپل ہیں، جبکہ سسٹر ایلزبتھ ایچ ایٹ برانچ میں فنانس افسر ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں خواتین کو مشنری زمرے میں ویزہ جاری کیا گیا تھا، جس میں انہیں کوئی اور کام یا ملازمت کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کے موجودہ ویزے منسوخ کر دیے جائیں۔

اسلام آباد کانوینٹ سکول کے قانونی مشیر رانا نذیر احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ وزارت داخلہ کے اس حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان تینوں کے ویزوں میں گزشتہ ماہ ہی دو سال کی توسیع کی گئی مگر اس وقت حکام نے ان کی ملازمت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کانوینٹ سکولز میں 1992ء سے فلپائن سے آنے والی مشنری اساتذہ کام کر رہی ہیں مگر یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکام نے ان کے ویزے کے زمرے کے بارے میں اعتراض اٹھایا ہے۔

وکیل رانا نذیر کا کہنا تھا کہ مشنری ورکرز کا موقف نہیں سنا گیا اس لیے وہ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے اس بارے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں ملک میں کام کرنے والی عالمی غیر سرکاری تنظیموں اور اُن سے وابستہ غیر ملکی شہریوں کی نگرانی کو سخت کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے حکومت نے بچوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ’سیو دی چلڈرن‘ کا اسلام آباد کا دفتر بھی سیل کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG