رسائی کے لنکس

148 پاکستانی اراکینِ پارلیمان کی رکنیت معطل


الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مالیاتی گوشوارے جمع نہ کرانے پر پاکستانی پارلیمان کے لگ بھگ ڈیڑھ سو اراکین کی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں کام سے روک دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے والے ایک نوٹی فکیشن کے مطابق مقررہ تاریخ پر گوشوارے جمع کرانے میں ناکامی پر 148 سینیٹرز اور اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کردی گئی ہے۔ معطل اراکین نہ تو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے اہل رہے ہیں اور نہ وہ بحیثیت وزیر یا قائمہ کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔

کمیشن کے مطابق معطل ہونے والوں میں سینیٹ کے 7، قومی اسمبلی کے 34 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے 107 اراکین شامل ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین میں سے 69 کا تعلق پنجاب، 16 کا سندھ، 12 کا بلوچستان جبکہ 10 ارکان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔

معطل ہونے والوں میں جمیعت علماء اسلام کے سربراہ اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن، ان کے بھائی اور وفاقی وزیرِ سیاحت مولانا عطاء الرحمن، وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت خورشید شاہ، وفاقی وزیرِ تعلیم آصف احمد علی، ریلوے کے وزیرِمملکت جادم منگریو، وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات پیر صمصام بخاری اور کئی دیگر وفاقی و صوبائی وزراء اور حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے صفِ اول کے قائدین بھی شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق گوشوارے جمع کرانے کی صورت میں مذکورہ اراکین کی رکنیت بحال کردی جائے گی۔ سابق دورِ حکومت میں ہونے والی ایک قانون سازی کی رو سے اراکینِ اسمبلی ہر سال اپنے مالی اثاثے اور گوشوارے ظاہر کرنے کے پابند ہیں۔

XS
SM
MD
LG