رسائی کے لنکس

پاکستان: زلزلے اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے موبائل فون نیٹ ورک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے ریسکیو بیس اسٹیشن 'آر بی ایس' کا ایک ماڈل بنایا ہے۔

پاکستانی تحقیق کاروں کے گروپ نے شمسی توانائی سے کام کرنے والا ایک ایسا موبائل فون نیٹ ورک تخلیق کیا ہے جو زلزلوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ عموماً ایسی آفات کی صورت میں مواصلاتی رابطے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

لاہور کی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلفورنیا کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر پاکستان کے لیے ریسکیو بیس اسٹیشن 'آر بی ایس' کا ایک ماڈل بنایا ہے جو ملک کا پہلا ہنگامی مواصلاتی نظام ہو گا جو عام موبائل فون کے ساتھ بھی کام کرے گا۔

اس منصوبے کے معاون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے وائس چانسلر عمر سیف نے خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ ’’جب آر بی ایس کو قدرتی آفات سے متاثرہ علاقے میں نصب کیا جائے گا تو لوگ خود کار طریقے سے اپنے موبائل فون پر اس کے سگنل وصول کرنا شروع کر دیں گے۔ وہ خود سے اس کا انتخاب کر کے کال کر سکتے ہیں، پیغام بھیج سکتے ہیں حتٰی کہ بغیر کسی خرچ کے انٹرنیٹ کو استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

’’آر بی ایس‘‘ ایک کم وزن مستطیل باکس ہے جس کے ساتھ ایک اینٹینا جڑا ہوا ہے جسے آسانی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے۔ اسے ہیلی کاپٹر کی مدد سے قدرتی آفات سے متاثرہ ان علاقوں میں نیچے پھینکا جا سکتا ہے جہاں پہنچنا آسان نہیں ہوتا۔ ان جگہوں پر جہاں بجلی میسر نہیں وہاں شمی پینلز کے ذریعے اس کی بیڑی کو چارج کیا جا سکتا ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے متبادل مواصلاتی نظام سے لوگوں کی زندگیوں کو بچانے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کا امدادی کارکنوں اور سرکاری عہدیداروں سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔

’’آر بی ایس‘‘ مواصلاتی نظام کو ابھی عملی طور پر کسی جگہ نصب نہیں کیا گیا، تاہم انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی یہ توقع رکھتی ہے کہ آئندہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران قدرتی آفات کے قومی ادارے اور مقامی مواصلاتی کمپنیوں کے مشترکہ تعاون سے اس کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

عمر سیف کا کہنا ہے کہ ’’آر بی ایس‘‘ کے سنگل اس کے گرد تین کلو میٹر کے علاقے میں وصول کیے جا سکتے ہیں اور اس علاقے کے لوگ آسانی کے ساتھ اپنا نام، پیشہ، عمر اور اپنے خون کے گروپ کے بارے میں معلومات فراہم کر کے اس کے ساتھ منسلک ہو سکتے ہیں۔

عمر سیف نے کہا کہ ’’اس سے خود کار طریقے سے آفت میں مبتلا لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں، امدادی کارکنوں اور آفت کا شکار لوگوں کو مدد ملتی ہے۔‘‘

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ 11 کروڑ ہے۔

XS
SM
MD
LG