رسائی کے لنکس

فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی، پاکستان میں یوم سوگ


سیکرٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا جہاں ایک سیاسی پہلو ہے وہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی یہ معاملہ نہایت سنگین ہے۔

پاکستان میں جمعہ کو فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سرکاری طور پر یوم سوگ منایا گیا اور اس دوران تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو یوم سوگ منانے کا اعلان کرنے کے علاوہ اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے امداد کی اپیل پر دس لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر حماس کے شدت پسندوں کے خلاف 18 روز سے جاری کارروائیوں میں 800 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

اس لڑائی میں اب تک اسرائیل کے 32 فوجیوں سمیت 34 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان نے اس لڑائی میں ہونے والے جانی نقصان کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان نے تمام متعلقہ فورمز پر اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اسرائیل کو غزہ سے اپنے فوجی واپس بلانے چاہیئں اور اپنی فوجی کارروائیاں بند کر دینی چاہیئں۔

"پاکستان اپنے تئیں ہر فورم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں، جنرل اسمبلی میں، انسانی حقوق کی کونسل میں، او آئی سی میں جہاں جہاں ہم اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ہم ادا کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے کیونکہ ہمارے خیال میں حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا جہاں ایک سیاسی پہلو ہے وہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی یہ معاملہ نہایت سنگین ہے۔ ان کے بقول غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں تک امداد کی فراہمی کے لیے علاقے کا محاصرہ ختم کیا جانا چاہیئے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر کارروائیاں یہ کہہ کر شروع کی تھیں کہ اس کا مقصد حماس کے شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیلی علاقوں میں راکٹ حملوں کو روکنا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی جلوس بھی نکالے جا چکے ہیں۔

امریکہ دونوں فریقوں پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ جنگ بندی کریں اور نومبر 2012ء کے معاہدے کی پاسداری کریں۔

XS
SM
MD
LG