رسائی کے لنکس

کراچی: کارکنوں کی ہلاکتوں کے خلاف متحدہ کا احتجاج اور سوگ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایم کیو ایم کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان چار لاشوں کو کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کی رہائش گاہ کے باہر رکھ کر احتجاج کیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

پاکستان کی ایک سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج اور سوگ کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اتوار کو ملک کے اقتصادی مرکز کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں ہڑتال کی سی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

کراچی اور حیدر آباد میں کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔

ایک روز قبل کراچی میں لیاری کے علاقے سے ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں جب کہ اسی جماعت کا ایک کارکن مبینہ طور پر دوران حراست پولیس کے تشدد سے ہلاک ہوا۔

ایم کیو ایم کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان چار لاشوں کو کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کی رہائش گاہ کے باہر رکھ کر احتجاج کیا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

اتوار کی صبح ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلی فون پر اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے متحدہ کے کارکنوں کے گرفتاریوں اور قتل کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کی یقین دہانی نہ کروائے جانے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے ایک مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی نے اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ کارکنوں کی لاشوں کی تدفین کے لیے یہاں سے احتجاج دھرنا ختم کیا جارہا ہے۔

ادھر سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے مطالبات مان لیے گئے ہیں اور وزیراعلیٰ نے متحدہ کے کارکنوں کی ہلاکتوں کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG