رسائی کے لنکس

متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار نے منگل کو کراچی میں ایک ہنگامی نیوز کانفرنس سے خطاب میں اپنی جماعت کے قائد الطاف حسین کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ’ایم کیو ایم‘ پاکستان ہی سے چلائی جائے گی۔

ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ فاروق ستار نے کہا کہ پیر کو الطاف حسین کی طرف سے جو تقریر کی گئی ’’ہم ان باتوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد کے ’’ذہنی تناؤ یا دباؤ‘‘ کا کوئی مسئلہ ہے تو اُسے حل ہونا چاہیئے۔

فاروق ستار نے کہا کہ اُن کا یہ پیغام ’’یہاں کے لیے بھی ہے اور وہاں (لندن) کے لیے بھی ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بحیثیت پاکستان مخالف نعرے کی اجازت نہیں دے گی۔

ایم کیو ایم لندن کے دفتر یا الطاف حسین کی طرف سے فاروق ستار کے بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں بھوک ہڑتال کیمپ سے خطاب میں پیر کو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے اپنی متنازع تقریر میں پاکستان مخالف الفاظ کے استعمال کے علاوہ رینجرز اور فوج کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے، جب کہ اُن کی تقریر کے بعد مشتعل افراد نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ’اے آر وائی‘ نیوز کے دفتر پر حملہ کیا تھا۔

بعد ازاں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک تحریری بیان میں اپنی تقریر اور اُس کے بعد تشدد کے واقعات پر معافی مانگی ہے۔

ایم کیو ایم کی ویب سائیٹ پر جاری بیان کے مطابق الطاف حسین کا کہنا تھا کہ وہ ساتھیوں کے ’ماورائے عدالت قتل‘ مسلسل گرفتاریوں، کارکنوں کی مشکلات اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے ساتھیوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے وہ شدید ذہنی تناؤ کے شکار تھے اور اس حالت میں اُنھوں نے وہ تقریر کی۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ’’اسٹیبلشمنٹ بشمول جنرل راحیل شریف، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر اور پاکستان کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے اس پر میں نادم ہوں۔ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے پاکستان کے عوام، اسٹیبلشمنٹ، فوج، آئی ایس آئی، تمام ارباب اختیار اور حکمرانوں کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ میری جانب سے ایسے الفاظ ہرگز استعمال نہیں ہوں گے۔‘‘

XS
SM
MD
LG