رسائی کے لنکس

سابق وزیراعظم گیلانی کا بیٹا انتخابی مہم کے دوران اغوا


علی حیدر گیلانی (فائل فوٹو)

علی حیدر گیلانی (فائل فوٹو)

جمعرات کو علی حیدر گیلانی فرخ ٹاؤن کے علاقے میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے اُن پر فائرنگ شروع کر دی جس سے اُن کے دو محافظ ہلاک اور دو شدید زخمی ہو گئے

پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے اور ملتان سے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے اُمیدوار علی حیدر گیلانی کو نامعلوم مسلح افراد نے اغواء کر لیا ہے۔

علی حیدر گیلانی ملتان کے صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے سے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار ہیں۔

جمعرات کو علی حیدر گیلانی فرخ ٹاؤن کے علاقے میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرنے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے اُن پر فائرنگ شروع کر دی۔

حملہ آوروں کے کچھ ساتھی ایک گاڑی میں بھی سوار تھے جو بعد میں علی حیدر کو وہاں سے اغوا کر کے لے گئے۔

یوسف رضا گیلانی نے ملتان میں صحافیوں سے گفتگو میں اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ایک کارنر میٹنگ سے نکلے تھے کہ اُن پر فائرنگ ہو گئی، اُن کے جو ذاتی محافظ تھے وہ اُن کے اوپر لیٹ گئے، اُن میں سے دو (ہلاک) ہو گئے اور دو شدید زخمی ہیں۔ انتخابات کو ہم سبوتاژ نہیں کرنا چاہتے…. اس قسم کے واقعات سے ملک عدم استحکام کا شکار ہو گا۔‘‘

ملتان پولیس کے سربراہ غلام محمد ڈوگر نے صحافیوں کے بتایا کہ ملتان اور اس سے ملحقہ دیگر اضلاع میں پولیس نے تمام شاہراہوں کی ناکہ بندی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق علی حیدر گیلانی چار نجی محافظ اپنے ساتھ رکھ سکتے تھے جو اُن کے ساتھ تھے۔

صدر آصف علی زرداری نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ علی حیدر گیلانی کی بازیابی کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان میں جاری انتخابی مہم کے دوران اپریل کے اواخر سے اب تک دہشت گرد حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک اور بیسوں زخمی ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے 11 مئی کو پولنگ کے دن پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ فوج کے 70 ہزار اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔

فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کو لاہور اور پشاور میں اعلٰی سطحی اجلاسوں سے خطاب میں کہا تھا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے اُنھوں نے تمام اداروں کے درمیان مربوط رابطے پر بھی زور دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG