رسائی کے لنکس

ممبئی حملے: پاکستانی کمیشن بھارتی گواہان سے جرح کرے گا


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وکیل استغاثہ نے کہا کہ جرح سے ان بھارتی افراد کے بیانات پاکستان میں زیر حراست سات مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف مقدمے میں استعمال ہو سکیں گے۔

بھارت نے پاکستانی عدالتی کمیشن کو ممبئی حملے کے چار اہم گواہان کی جرح کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ فیصلہ بھارت سے آئے ہوئے وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان تین روزہ مذاکرات میں ہوا جس میں پاکستانی عدالتی کمیشن کے بھارت جا کر 2008ء کے حملے کے گواہان سے جرح کرنے سے متعلق قواعد و ضوابط بھی طے پایا ہے۔

پاکستان میں جاری ممبئی حملوں سے متعلق ایک مقدمے میں وکیل استغاثہ ذوالفقار علی نے اتوار کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستانی کمیشن کے دورے کی تاریخ کا اعلان نئی دہلی اپنے وفد کی جانب سے رپورٹ کی وصولی کے بعد کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمیشن تقریباً آٹھ افراد پر مشتمل ہوگا جس میں عدالتی حکام کے علاوہ استغاثہ اور دفاع کے وکلاء شامل ہوں گے۔

بھارت کا چار رکنی وفد جوائنٹ سیکرٹری دھرمیندر شرما کی قیادت میں جمعہ کو اسلام آباد آیا اور یہاں وزات داخلہ اور قانون کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔

ذوالفقار علی نے کہا کہ جرح سے ان بھارتی افراد کے بیانات پاکستان میں زیر حراست سات مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف مقدمے میں استعمال ہو سکیں گے۔

’’جب تک ان افراد کے بیانات سے ہمارا مقدمہ مزید مضبوط ہو گا اور ہمیں ملزموں کے خلاف فیصلہ لینے میں آسانی ہوگی۔‘‘

ان چار گواہان میں حملے میں واحد زندہ بچنے والے عسکریت پسند اجمل قصاب کا اقبالی بیان قلم بند کرنے والی خاتون مجسٹریٹ، مرنے والے عسکریت پسندوں کا پوسٹ مارٹم کرنے والے دو ڈاکٹرز اور اس واقعے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر شامل ہیں۔

پاکستانی کمیشن اس سے پہلے رواں سال مارچ میں بھارت کا دورہ کر چکا ہے مگر انہیں ان چار گواہان سے جرح کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور وہ صرف ان کے بیانات ہی قلمبند کرسکا جسے ممبئی حملے سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کرنے والی پاکستانی عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

2008ء میں ممبئی شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان نے کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف ان حملوں کی منصوبہ بندی اور حملہ آوروں کی معاونت کرنے کے الزام پر انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا۔

اس حملے میں 166 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دونوں ہمسایہ ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے۔

وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ کمیشن کے دورے اورجرح کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر پاکستانی عدالت میں ممبئی حملوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا۔

’’کافی ٹھوس شواہد موجود ہیں ان کے خلاف، سی آئی ڈی کے انسپکٹروں نے عدالت کو بتایا کہ یہ ملزمان عسکریت پسندی میں ملوث ہیں اور ان کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔‘‘

پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے حکام نے حال ہی میں عدالت کو اپنے بیانات میں بتایا ہے کہ ممبئی حملہ آور زیر حراست افراد کے ساتھ رابطے میں تھے اور انہوں نے لشکر طیبہ کی مختلف تربیت گاہوں سے تربیت حاصل کی۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اپنے حالیہ دورے بھارت میں یہ بیان دیا تھا کہ اگر نئی دہلی شواہد فراہم کرے تو وہ فوراً لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کی گرفتاری کے احکامات جاری کریں گے۔
XS
SM
MD
LG