رسائی کے لنکس

ممتاز قادری کے مقدمے کی سماعت تین فروری تک ملتوی


ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے بھی تیار ہیں۔

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی اپیل کی سماعت استغاثہ کے وکیل کی درخواست پر تین فروری تک ملتوی کر دی۔

سابق پولیس اہلکار ممتاز قادری نے چار جنوری 2011ء کو اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ گورنر کے محافظوں میں شامل تھا اور اس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قتل اس نے توہین مذہب میں ترمیم سے متعلق سلمان تاثیر کے بیان کے ردعمل میں کیا۔

انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت اکتوبر 2011ء میں ممتاز قادری کو موت کی سزا سنا چکی ہے جس کے خلاف اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

منگل کو اس درخواست کی سماعت عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے شروع کی لیکن ممتاز قادری کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں نہ تو شکایت کنندہ اور نہ ہی سرکار کی طرف سے کوئی وکیل پیروی کے لیے پیش ہو رہا ہے۔

سرکاری وکیل جہانگیر جدون نے عدالت عالیہ سے مقدمے کی تیاری کے لیے دو ہفتوں کی مہلت مانگی لیکن بینچ نے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت تین فروری تک ملتوی کردی۔

عدالت کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس تاثر کو رد کیا جانا چاہیے کہ سلامتی کے خدشات کے باعث کوئی بھی وکیل اس مقدمے کی پیروی کرنے سے گریز کر رہا ہے اور عدالت اس مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے لیے بھی تیار ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قانون سے متعلق بیان ایک حساس معاملہ رہا ہے اور اکثر توہین رسالت یا مذہب کے الزام میں قانونی کارروائی سے قبل ہی اس کے مبینہ مرتکب کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اس الزام کا سامنا کرنے والوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والوں کو بھی مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG