رسائی کے لنکس

پاکستان میں معتدل آوازوں کے قتل پر عالمی ماہرین کی تشویش

  • ندیم یعقوب

پاکستان میں معتدل آوازوں کے قتل پر عالمی ماہرین کی تشویش

پاکستان میں معتدل آوازوں کے قتل پر عالمی ماہرین کی تشویش

پاکستان میں گزشتہ دو مہینوں کے دوران دو اہم سیاسی شخصیا ت کے قتل نے بیرونی دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔امریکہ میں موجود انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیا ل ہے کہ یہ واقعات ملک میں انتہا پسندی اور مذہبی اقلیتوں کے لئے عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف موثر اقدامات اٹھا کر یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ ملک سے انتہا پسندی کے خاتمے میں سنجیدہ ہے۔

جنوری میں پنجاب کےگورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حکومت نے توہین رسالت کے قانون میں ترامیم پر اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس متنازع قانون میں کوئی تبدیلی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ مگر اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اس قانوں کے غلط استعمال کے واقعات کی بات کرتے رہے ۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹ فرسٹ کے پالیسی ڈائریکٹر ٹڈ سٹینکی کا خیال ہے کہ حکومت کواب دفاعی موقف کی بجائے جرات مندانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد حکومت نے بہت ہی دھیما سا رد عمل دکھایا ۔ ایسے لگا کہ جیسے حکومت اس متنازع قانون اور ان کے قتل کے معاملے پر فیصلہ کن طریقے سے موقف اختیار کرنے سے گریزاں ہے۔ اب شہباز بھٹی کے قتل کی بعد حکومت دفاعی انداز اپنانے کی بجائے زیادہ بھر پور طریقے سے آگے بڑھ سکتی ہے۔اور وہ یہ کر سکتی ہے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داران کی فوری گرفتاری سے۔ وہ بھٹی کے کام اور ان کے موقف کی حمایت کر کے بھی ظاہر کر سکتی ہے کہ وہ اس قسم کے قتل برداشت نہیں کرے گی۔

امریکی تجزیہ نگارپاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں ۔ یہاں عام تاثر ہے کہ مذہبی انتہا پسندی عام شہریوں اور خاص طور پرمذہبی اقلیتوں کے حقوق کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ واشنگٹن میں قدامت پسند تھنک ٹینک دی ہیریٹج فاؤنڈیشن سے منسلک جنوبی ایشیا کی ماہر لیزا کرٹس کہتی ہیں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہباز بھٹی کے قتل سے ایک واضح رجحان نظر آتا ہے کہ پاکستان میں مذہبی آزادی کے لئے عدم برداشت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ پاکستان میں جمہوریت کے لئے بھی نقصان دہ ہے کیونکہ مذہبی انتہا پسند عناصر تشدد کے ذریعے آزادی اظہار رائے اور سیاسی عمل کو ختم کر رہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے کیونکہ انتہا پسندانہ سوچ معاشرے کے اندر سرائیت کر رہی ہے جو پاکستان کے اندرونی استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ اب سیاسی جماعتوں اور جمہوریت پسند عناصر کو اس رجحان کو روکنے کے لئے آگے آنا چاہیے ۔

مہذب معاشروں میں آزادی اظہار رائے کے بغیر جمہوریت نامکمل تصور کی جاتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں سیاست دان اور عوام اگر اپنی رائے کا اظہار کھل کر نہیں کرپاتے تو یہ جمہوریت کے لئے خوش آئند نہیں۔

XS
SM
MD
LG