رسائی کے لنکس

بینظیر قتل کیس میں مشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری


سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف

سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی رہنماء اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت ہفتے کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوئی جس میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی نے عدالت سے استدعا کی کہ اس مقدمے کی تحقیقات مکمل کرنے کے لیے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی گرفتاری ضروری ہے ۔

ہفتے کو ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کی تفتیشی ٹیم نے وزارتِ داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کے سابق سربراہ جاوید اقبال چیمہ اور انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ اعجاز شاہ کے ریکارڈ کردہ بیانات بھی پیش کیے۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعدسابق فوجی صدر کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے اُنھیں حکم دیا کہ وہ 19فروری کو عدالت میں پیش ہوں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا ’’عدالت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے انٹرپول سے بھی رابطہ ہوگا، یہ عدالت پر ہے کہ وہ حکومت سے کس طرح کی مدد مانگتی ہے‘‘۔

سابق فوجی صدر کے قریبی ساتھی اور قانونی معاون بیرسٹرمحمد علی سیف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پرویز مشرف کو سیاسی عداوت کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا ہے اور اُن کے بقول ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم نے سابق صدر سے رابطہ کیے بغیر ہی اُن کے بارے میں اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔

اس سے قبل مقدمے کی گذشتہ سماعت میں عدالت کے سامنے پیش کیے گئے عبوری چالان میں سابق صدر پرویز مشرف کا نام ملزمان کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں راولپنڈی پولیس کے دو سابق افسران سعود عزیز اور خرم شہزادبھی زیرحراست ہیں ۔
ان دونوں پولیس افسران پر الزام ہے کہ اُنھوں نے مقتول بے نظیربھٹوکی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظام میں غفلت برتی تھی۔

27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر بھٹو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کے لیے گئی تھیں تو اُس وقت سعود عزیز راولپنڈی پولیس کے سربراہ تھے جب کہ ایس پی خرم شہزادبھی بے نظیر بھٹوکی حفاظت پر معمور تھے۔

XS
SM
MD
LG