رسائی کے لنکس

پرویز مشرف کی سیاست میں واپسی، پارٹی قائم کردی، الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان


پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے لندن میں اپنی نئی سیاسی پارٹی قائم کردی

پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے لندن میں اپنی نئی سیاسی پارٹی قائم کردی

پاکستان کے سابق فوجی حکمران پرویز مشرف نے ایک نئی سیاسی پارٹی کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پاکستان جائیں گے۔

مسٹر مشرف نے یہ اعلان لندن میں کیا جہاں وہ خود ساختہ جلاوطنی میں زندگی گذاررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی نئی سیاسی جماعت کا نام آل پاکستان مسلم لیگ ہوگا۔

مسٹر مشرف نے کہا کہ موجودہ پاکستانی حکومت رشوت ستانی اور اقراپروری میں ملوث ہے اور صرف فوج ہی ملک کو بچا سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ نے لندن میں ایک پاکستانی تجزیہ کار فرحانہ شیخ سے بات کی اور ان سے یہ پوچھا کہ آیا اگلے انتخابات میں صدر مشرف کے جیتنے کا امکان ہے۔

ان کا مختصر جواب تھا کہ نہیں۔

فرحانہ شیخ کا کہنا تھاکہ پرویز مشرف کو زیادہ ان لوگوں کی حمایت حاصل ہے جو ملک سے باہر ہیں۔ اگرچہ ان لوگوں کے پاس معاشی قوت موجود ہے لیکن ان کا ووٹروں پر یقینی طورپر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے۔ ان کا کہناتھا کہ مسٹر مشرف غیر مقبول ہیں، حتی کہ فوج میں بھی ۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر مشرف کو فوج کے اندر اور پاکستان میں فوج کے وقار کو نقصان پہنچانے والے ایک شخص کے طورپر دیکھا جاتا ہے اور انہیں ایک ایسا شخص سمجھا جاتاہے جنہوں نے بیرون ملک پاکستان کی شناخت مجروع کی اور ملک کے اندر اداروں کو برباد کیا۔

مسٹر مشرف نے 1999ء میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے پاکستان کے اقتدار پر قبضہ کیاتھا۔ وہ 2008ء میں ایک صدر کے طور اقتدار سے الگ ہوئے اور ان کی جگہ موجودہ صدر آصف علی زرداری نے لی۔

لیکن فرحانہ شیخ کا کہنا تھا کہ مسٹر زرداری غیر مقبول ہیں۔ پاکستان میں تباہ کن سیلابوں سے نمٹنے میں ان کی کارکردگی پر نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے، جن میں اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق تقریباً دو کروڑ افراد متاثر ہوئے۔

فرحانہ شیخ کا کہنا ہے کہ مسٹر مشرف یقینی طورپر فوج سے تعلقات استوار کریں گے جو پاکستان کی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے بہت مایوس ہے۔ ان کا کہناتھا کہ موجودہ حکومت ایک ایسی حکومت ہے جس نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حالیہ سیلابوں سے پیدا ہونے والے کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

فرحانہ شیخ کا کہناتھا کہ مسٹر مشرف مستقبل قریب میں پاکستان نہیں جاسکیں گے کیونکہ انہیں وہاں غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کو سیکیورٹی کے خطرات بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ اسلام پسندوں نے ان پر اس وقت دوبار قاتلانہ حملے کیے جب وہ اقتدار میں تھے۔

XS
SM
MD
LG