رسائی کے لنکس

غداری کا مقدمہ سپریم کورٹ کے اختیار میں نہیں: اٹارنی جنرل


پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)

پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ)

وفاقی حکومت کے وکیل عرفان قادر نے جمعرات کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق کسی قسم کی کارروائی شروع کرنے کے فیصلے کا اختیار صرف حکومت کو حاصل ہے اور ملک کا آئین عدالت اعظمی کو یہ اختیار نہیں دیتا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں پرویز مشرف کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سامنے حکومت کا موقف پیش کرتے ہوئے اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی غداری کا مقدمہ کسی ٹرائیل کورٹ میں چل سکتا ہے مگر پرویز مشرف کے معاملے میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

عرفان قادر نے وائس آف امریکہ سے مختصر گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ وفاق نے اپنے موقف میں پرویز مشرف کے وکلاء کے دلائل کی توثیق کی ہے۔

’’میری پوزیشن ان کے وکلاء نے کوئی نہیں لی۔ میں نے تو سیدھی سیدھی پوزیشن لی ہے۔ انہوں نے تو نہیں کہا کہ (مشرف کے اقدامات) غیر قانونی ہیں، میں نے تو کہا کہ یہ غیر قانونی ہے سارا۔‘‘

سابق صدر کے وکلاء اس سے پہلے عدالت میں یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ حکومت کو پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی ہدایت کرتی ہے تو ایسا کرنا آئین میں عدالت عظمٰی کے وضع کردہ اختیارات سے تجاوز ہو گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کے استفسار پر کہا ہے 1999ء میں سابق صدر کا جمہوری حکومت کو اقتدار سے علیحدہ کرنا اور 2007ء میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ غیر قانونی اور غیر آئینی عمل تھے مگر ان کے بقول یہ طے کرنا باقی ہے کہ پرویز مشرف نے ’’آئین مکمل طور پر توڑا بھی یا صرف چند ججوں کو فارغ کیا۔‘‘

جسٹس عارف خلجی کا کہنا تھا کہ عدالت چاہتی ہے کہ حکومت اس بارے میں کچھ نا کچھ تو کرے۔

’’جب آپ کہتے ہیں کہ غیر قانونی ہے، آئین کی خلاف ورزی کی ہے تو پھر ان کے خلاف کارروائی کریں۔‘‘

جس پر عرفان قادر کا کہنا تھا ’’ججوں نے بھی خلاف ورزیاں کی ہیں ... ہم آہنگی کی فضا کو یقینی بنانا ضروری ہے، اب الزامات کے کھیل کو ختم کرنا ہوگا۔‘‘

ایک درخواست گزار وکیل شیخ احسن الدین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس موقف کے بعد سابق صدر کے خلاف ان کا مقدمہ کمزور نہیں ہوا۔

’’حکومت جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کا کام تو آئین و قانون کی پاسداری اور حفاظت ہے۔ عدالت کا اختیار ہے ہدایت یا فیصلہ دینا۔ کیا انھوں نے این آر او اور مقدمات میں ہدایات جاری کی ہیں، اگر یہ عمل نہیں کریں گے تو آئندہ حکومت پر لازم ہوگا کہ وہ عمل درآمد کریں۔‘‘

نگراں حکومت عدالت عظمٰی کو کہہ چکی ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کی کارروائی شروع کرنا ان کے دائر اختیار میں نہیں اور ایسا کرنے سے ان کی غیر جانبدادی پر سمجھوتہ ہو گا۔

پرویز مشرف مارچ میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئے تھے تاہم عدالت نے اُن پر ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کرنے کے بعد سابق صدر کو نااہل قرار دے کر انتخابات لڑنے روک دیا گیا اور اب وہ مختلف مقدمات میں زیر حراست ہیں۔
XS
SM
MD
LG