رسائی کے لنکس

مشرف کے خلاف غداری کی کارروائی کا تاحال فیصلہ نہیں کیا، لیگی رہنما


پرویز مشرف (فائل فوٹو)

پرویز مشرف (فائل فوٹو)

طارق عظیم کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف، پرویز مشرف کے خلاف کسی انتقامی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طارق عظیم نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے جماعت کے حالیہ اجلاسوں میں ’’غیر جانبدار‘‘ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا مگر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کی کارروائی شروع کرنے سے متعلق تاحال کچھ طے نہیں پایا۔

’’جب حکومت میں آئیں گے تو بہت سی دوسری چیزوں کے ساتھ اسے بھی دیکھیں گے اور پھر قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کے اس پر کیسے آگے بڑھا جائے۔‘‘

عدالت اعظمیٰ میں پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور ججوں کو 2007 میں نظر بند کرنے کے الزامات پر غداری کی کارروائی شروع کرنے کی متعدد درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ نگراں حکومت ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت کو بتا چکی ہے کہ ایسی کارروائی کا فیصلہ منتخب حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے۔



پاکستان کے آئین کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف غداری کی کارروائی صرف وفاقی حکومت ہی شروع کرسکتی ہے اور اٹارنی جنرل کے مطابق عدالت بھی حکومت کو اس بارے میں ہدایت نہیں دے سکتی۔

طارق عظیم کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف، پرویز مشرف کے خلاف کسی انتقامی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے۔

’’انہوں (نواز شریف) نے (سابق) جنرل مشرف کے بارے میں کوئی بات نہیں کی مگر اصولی طور پر اسے تسلیم کیا گیا کہ اگر کوئی چاہے وہ بیوروکریٹ ہو یا سیاست دان ہو یا جنرل ہو قانون یا آئین توڑتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے‘‘

سابق صدر نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں جیل بھیج دیا تھا اور پھر بعد میں ملک بدر کرکے تقریباً آٹھ سال جلاوطن رہنے پر مجبور کیا۔

مشرف کے وکیل سپریم کورٹ میں یہ کہہ چکے ہیں کہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی نظر بندی فرد واحد کا فیصلہ نا تھا بلکہ اس وقت کے وزیراعظم، کابینہ اور ملڑی قیادت کی مشاورت پر اقدامات کیے گئے۔ ان نے متنبہ بھی کیا کہ اس بارے میں کسی بھی کارروائی سے ایک پنڈورا بکس کھلنے کے امکانات ہیں۔

تاہم مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا۔ ’’اب کسی قسم کا کرائم ہو تو آپ نہیں کہ سکتے کہ جی بہت سارے نام آرہے ہیں اس لئے کور اپ کیا جائے۔ جرم میں جو بھی ملوث رہا ہے اسے اپنا جواب دینا ہوگا۔ میرے خیال میں احتساب سب کے لئے ہونا چاہیے۔‘‘

سابق صدر کے دور میں طارق عظیم پرویز مشرف کی اس وقت حامی پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت میں وزیر مملکت برائے اطلاعات تھے۔

پرویز مشرف کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور بزرگ قوم پرست بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔
XS
SM
MD
LG