رسائی کے لنکس

سیاسی حلقوں کے پرویز مشرف ’ٹرائیل‘ پر خدشات میں اضافہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام کے سینئیر رہنما حافظ حسین احمد نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ فوج کے سابق سربراہ کے 1999ء کےغیر آئینی اقدامات کو آئینی ڈھال دینے سے متعلق ان کی جماعت عدالت میں جواب دینے کو تیار ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے الزامات پر عدالتی کارروائی جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے اس پورے عمل پر سیاسی حلقوں کی طرف سے تحفظات میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

کوئی تو اسے فوج جیسے ادارے کے تشخص کو مجروح کرنے پر ہدف تنقید بنا رہا تو کئی مبینہ آئین شکنی کے صرف ایک واقعے پر ایسی کارروائی کو درست نہیں گردان رہے۔

جمعت علماء اسلام (ف) موجودہ نواز شریف انتظامیہ کی اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ 1999ء میں پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد بننے والی پارلیمان کا اہم حصہ بھی تھی۔

جمعیت کے سینئیر رہنما حافظ حسین احمد نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے سابق سربراہ کے 1999ء کےغیر آئینی اقدامات کو آئینی ڈھال دینے سے متعلق ان کی جماعت عدالت میں جواب دینے کو تیار ہے۔

’’پرویز مشرف کو سب سے پہلے توثیق رفیق تارڑ نے دی جو کہ اسلامی جمہوری پاکستان کا صدر تھے۔ وہ نا دیتے تو وہ خود نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ تو جو لوگ اس (مشرف) کا ٹرائیل کررہے ہیں وہ اس معاملے کو دیکھے کہ نواز شریف نے کیوں تارڑ صاحب کو وہاں رہنے کا کہا اور وہ ڈھائی سال وہاں رہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’کاش چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سپریم کورٹ میں ہوتے تو پھر ہم انہیں بتاتے کہ تم نے تین سال (پرویز مشرف) کو کیسے دیے۔‘‘

اس سے پہلے پرویز مشرف کی سابق حامی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین حکومت کی قائم کردہ تین رکنی خصوصی عدالت کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ عدالت میں بیان دینے کو تیار ہیں کہ 2007ء کا اقدام فرد واحد کام نہیں تھا۔

پارلیمان میں حرب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں۔

’’مجھے ڈر ہے کہ این آر او تھری تو نہیں دیا جارہا۔ این آر او ون نواز شریف کو وطن سے باہر بھجنے کا تھا۔ این آر او ٹو آصف زرداری کو واپس لانے کا تھا اور یہ نیا کہیں واپس جانے کی تیاری کا تو نہیں۔‘‘

سابق صدر گزشتہ سال مارچ میں تقریباً چار سالہ خود ساختہ ختم کرکے ملک واپس آئے جہاں ان کو مختلف مقدموں کا سامنا کرنا پڑا جن میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اور بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی قتل کے علاوہ 2007ء میں ججوں کی نظربندی شامل ہیں۔

عوامی جمہوری اتحاد کے قانون ساز عثمان خان ترکئی بھی صرف پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’اسی طرح چلتا رہا تو کل ایسا نا ہو کہ شہید ذوالفقار بھٹو کا بھی دوبارہ ری ٹرائیل ہوا اور ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے۔ کل کہیں کہ جی اس (آئین شکنی) میں اور بھی لوگ شریک تھے۔ تو حکومت سوچ سمجھ کر قدم لے۔‘‘

تاہم حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قانون ساز اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ فوج کے سابق سربراہ کے خلاف عدالتی کارروائی کو متنازع بنانے کی کوشش کا مقصد ان کے بقول پرویز مشرف کے فرار کی راہ ہموار کرنا ہے۔

’’ایک حکومت کے ادارے نے تحقیقات کے بعد ایک فرد کے خلاف چالان جمع کروایا ہے تو ایک ہی کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ہاں بعد کی کارروائی کے دوران اور نام آتے ہیں تو عدالت انہیں شامل کرسکتی ہے۔ اب یہ تو نہیں کہ 18 کروڑ کے خلاف کارروائی کی جائے کہ انہوں نے اس کا مارشل لاء تسلیم کیا تھا۔‘‘

پرویز مشرف اس وقت علالت کے باعث افواج پاکستان کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں اور حکومت کے مرکزی ترجمان کا کہنا ہے کہ علاج کے لیے ان کے ملک سے باہر جانے کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
XS
SM
MD
LG