رسائی کے لنکس

مشرف پر فرد جرم عائد کرنا قانون کی بالادستی ہے: ماہرین


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

سابق فوجی صدر کی قانونی ٹیم کے رکن احمد رضا قصوری اس مقدمے کو وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سیاسی انتقام کی ایک کڑی قرار دیتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی عدالت نے آئین شکنی کے الزامات پر ملک کے سابق سربراہ مملکت اور سابق آرمی چیف پر فرد جرم عائد کی۔

قانونی اور سیاسی مبصرین اسے ملک میں قانون کی بالادستی اور احترام کے لیے اہم پیش رفت گردانتے ہیں جبکہ بعض اسے ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کی نوید سے بھی تشبہہ دیتے ہیں۔

سینئیر وکیل اور سیاسی کارکن عابد حسن منٹو کا وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا۔

’’آرٹیکل 6 کو استعمال میں لانا خود ایک اہم پیش رفت ہے۔ آئین میں لکھا تھا کہ مارشل لا نہیں لگے گا مگر 1973 کے بعد لگے۔ جمہوریت کا استحکام کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ سیاسی طاقت کتنی ہے۔‘‘

تاہم سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور ان کی قانونی ٹیم کے رکن احمد رضا قصوری اس مقدمے کو وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سیاسی انتقام کی ایک کڑی قرار دیتے ہیں۔

’’یہ (مقدمہ) تعصب پر بنیاد کرتا ہے۔ اس کے پیچھے بدنیتی ہے۔ اس لیے ہم بھی اسے سیاسی طور پر نمٹ رہے ہیں۔ استغاثہ نے خود کہا کہ یہ غداری کا نہیں، آئین شکنی کا مقدمہ ہے۔‘‘

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ فوج کے سابق سربراہ کے خلاف غداری کی کارروائی سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں شروع کی گئی اور اس میں کوئی ذاتی عناد نہیں۔

حکومت کے وکیل طارق حسن عدالت میں استغاثہ کے موقف سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

’’یہ ترجمے کا مسئلہ ہے، انہیں کسی نے غدار نہیں کہا۔ ان پر تو آئین شکنی کے الزامات ہیں جو انہوں نے غیر آئینی طریقے سے احکامات جاری کیے اور ججوں کو ہٹایا اور نئے جج لے کر آئے۔‘‘

پرویز مشرف کی طرف سے تین رکنی عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ انھیں اپنی علیل والدہ کی عیادت اور اپنے علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ تاہم وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو میں اس تاثر کو رد کیا کہ سابق صدر کو کسی ڈیل کے تحت ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

’’مشرف سے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیئے۔ کسی مجرم کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ مجرموں کو پکڑنے کا ملا ہے، مجرموں کو چھوڑنے کا تو ملا ہی نہیں۔‘‘

پرویز مشرف یہ کہتے آئے ہیں کہ 2007 میں آئین معطل کر کے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ انھوں نے اس وقت کے سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی مشاورت سے کیا اور صرف ان کے خلاف کارروائی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG