رسائی کے لنکس

پرویز مشرف کا جوڈیشل ریمانڈ، ’رہائش گاہ سب جیل قرار‘


پرویز مشرف

پرویز مشرف

رواں ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کی ججوں کی نظر بندی کے مقدمے میں ضمانت منسوخ کرتےہوئے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے بعد ان کے خلاف اسی مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی ایک شق میں اضافہ کر دیا تھا

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ججوں کی نظربندی سے متعلق مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا چار مئی تک جوڈیشل ریمانڈ دیتے ہوئے اُنھیں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں پرویز مشرف کو سخت حفاظتی انتظامات میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لایا گیا جہاں پولیس نے ان کے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے انھیں چار مئی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد پرویز مشرف کو پولیس ہیڈکوارٹر واپس لے جایا گیا جہاں ایک روز قبل انھیں گرفتاری کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے راہداری ریمانڈ دیے جانے پر منتقل کیا گیا تھا۔

لیکن بعد میں اسلام آباد انتظامیہ نے پرویز مشرف کی رہائش گاہ کو ’سب جیل‘ قرار دے دیا۔

اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی نظر بندی کے مقدمے میں رواں ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر کی حفاظتی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے اُنھیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے بعد ان کے خلاف اسی مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی ایک شق اضافہ کر دیا تھا۔

پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے اعلٰی عہدیدار محمد امجد نے صحافیوں کو بتایا کہ اُن کے رہنما نے اپنے دور اقتدار میں ججوں کو نظر بند کرنے کا کبھی حکم نہیں دیا۔

’’ایسے شواہد نہیں ہیں کہ ججوں کو چھ مہینے تک کہیں حبس بے جا میں رکھا گیا ہو۔‘‘

جب پرویز مشرف کو اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے حصار میں سابق فوجی صدر کو کمرہ عدالت تک لایا گیا۔

سابق صدر کو اپنے دور اقتدار میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اعلٰی عدلیہ کے ساٹھ ججوں کو نظر بند کرنے، بے نظیر بھٹو اور بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کے قتل سے متعلق مقدمات کا سامنا ہے۔

پرویز مشرف کی سیاسی جماعت کا کہنا ہے کہ اُن کے رہنما تمام مقدمات میں عدالتوں کا سامنا کریں گے۔

آئین توڑنے کے الزام میں سابق صدر کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق درخواستوں کی سپریم کورٹ میں ابتدائی سماعت ہو رہی ہے۔ ہفتہ کو عدالت عظمٰی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان درخواستوں کی مزید سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG