رسائی کے لنکس

مشرف کی درخواست مسترد، مقدمہ خصوصی عدالت میں ہی چلے گا


پرویز مشرف (فائل فوٹو)

پرویز مشرف (فائل فوٹو)

سابق صدر کے وکیل خالد رانجھا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔

پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری سے متعلق مقدمے کو فوجی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین رکنی خصوصی بینچ ہی اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے درخواست دائر کر رکھی تھی کہ ان کے موکل پر مقدمہ فوجی عدالت میں چلایا جائے لیکن خصوصی عدالت نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر آرمی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر کے وکلاء نے اپنے دلائل میں جس آرمی ایکٹ ذکر کیا وہ 1981 میں کالعدم ہو چکا ہے۔

سابق فوجی صدر کے وکلا نے خصوصی عدالت کے دائرہ کار اور ججوں کے متعصب ہونے کی درخواستیں بھی دائر کر رکھی تھیں۔

عدالت نے گزشتہ منگل کو پرویز مشرف کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 11 مارچ کو طلب کیا ہے اور امکان ہے کہ پیش ہونے پر سابق صدر کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے گی۔

سابق صدر کے وکیل خالد رانجھا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔

’’عام عدالت کے پاس کوئی مقدمہ آئے جس میں فوجی ملوث ہو تو اُس عدالت کا فرض ہے کہ وہ جی ایچ کیو (فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر) کو خط لکھے کہ یہ مقدمہ (فوج) سنے گی یا سول عدالت۔ یہ ہی وجہ ہے آج کہ پاکستان میں عام عدالتوں میں کسی فوجی کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاتا۔‘‘

پرویز مشرف کے ایک وکیل احمد رضا قصوری کا جمعہ کو سنائے گئے فیصلے پر کہنا تھا کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ جب ملک میں (ایمرجنسی) نافذ کی گئی اُس وقت پرویز مشرف آرمی چیف تھے اور وردی میں تھے لہذا اُن پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ وہ ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، قانون یہ ہے کہ اُس وقت اُن کی کیا حیثیت تھی جب (اُنھوں نے ایمرجنسی نافذ کی)۔‘‘

تاہم استغاثہ کے وکلاء کا موقف ہے کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ درست اور قانون کے عین مطابق ہے۔

پرویز مشرف پر الزام ہے کہ انھوں نے تین نومبر 2007ء کو ملک کا آئین توڑا جو آئین کی شق چھ کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

وفاق کی درخواست پر سابق فوجی صدر پر گزشتہ سال دسمبر میں آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی عدالت تشکیل دی گئی تھی۔

پرویز مشرف اور ان کے وکلا روز اول ہی سے عدالت کی تشکیل اور اس کے تین رکنی بینچ پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔

سابق صدر ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور تاحال ان پر خصوصی عدالت میں فرد جرم بھی عائد نہیں کی جا سکی ہے۔

خصوصی عدالت کی طرف سے قابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پرویز مشرف 18 فروری کو پہلی مرتبہ خصوصی عدالت میں پیش ہوئے تاہم مختصر سماعت کے بعد وہ واپس راولپنڈی میں عسکری ادارہ برائے امراض قلب منتقل ہو گئے جہاں وہ زیر علاج ہیں۔

دو جنوری کو عدالت جاتے ہوئے سینے میں تکلیف کے باعث پرویز مشرف کو راولپنڈی منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹر کہہ چکے ہیں سابق صدر کی بیماری پیچیدہ ہے اور اُنھیں فوری طور پر انجیوگرافی کی ضرورت ہے۔

سابق صدر کے وکلا خصوصی عدالت سے یہ استدعا بھی کر چکے ہیں کہ اُن کے موکل کو علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے جسے عدالت مسترد کر چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG