رسائی کے لنکس

کراچی: پرویز مشرف کی سخت سیکورٹی میں بیٹی کے گھر آمد


پرویز مشرف (فائل فوٹو)

پرویز مشرف (فائل فوٹو)

سابق فوجی صدر کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیداروں کے مطابق وہ کراچی میں اپنے خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کریں گے۔

اپ ڈیٹ: ہفتے کی شب پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد سے کراچی پہنچنے کے بعد انتہائی سخت سکیورٹی میں ڈیفنس کے علاقے میں اپنی بیٹی کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔

پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ سندھ کے کواڈینیٹر عمران صدیقی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پرویز مشرف خیریت سے اپنی بیٹی کے گھر پہنچ گئے ہیں اور ان کے اس دورے کا مقصد کراچی کے پی این ایس شفا اسپتال میں علاج کروانا ہے اور اس کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔

ابتدائی خبر:
پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف ہفتہ کو اسلام آباد ایک خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی روانہ ہو گئے جہاں وہ مختصر قیام کریں گے۔

گزشتہ سال اپریل کے بعد پرویز مشرف پہلی بار اسلام آباد سے باہر جا رہے ہیں۔ اُن کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے عہدیداروں کے مطابق وہ کراچی میں اپنے خاندان کے دیگر افراد سے ملاقات کریں گے۔

اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے ایئر پورٹ تک سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

توقع ہے کہ پی این ایس شفا اسپتال میں اپنا طبی معائنہ بھی کروائیں گے۔

پرویز مشرف گزشتہ سال مارچ میں چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے کراچی آئے تھے جہاں سے وہ اپریل میں اسلام آباد منتقل ہو گئے۔

اُنھیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور ابتدا میں کچھ وقت کے لیے پرویز مشرف کو اُن کے فارم ہاؤس میں ہی زیر حراست رکھا گیا لیکن بعد میں اُنھیں عدالتوں سے ضمانت مل گئی۔

پرویز مشرف دو جنوری کو دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی میں فوج کے امراض قلب کے اسپتال منتقل ہوئے تھے جہاں سے وہ رواں ماہ ہی دوبارہ اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس آئے۔

اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوتے وقت سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔

سابق فوجی صدر کو اس وقت سنگین غداری کے مقدمے کا سامنا ہے جس میں اُن پر ایک خصوصی عدالت میں فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔ تاہم اُنھوں نے صحت جرم سے انکار کیا اور اب یہ مقدمہ زیر سماعت ہے۔

پرویز مشرف علاج اور اپنی علیل والدہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں لیکن اُن کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہے جو ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

سابق صدر کی درخواست کے باوجود حکومت کی طرف سے اُن کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نہیں نکالا گیا۔
XS
SM
MD
LG