رسائی کے لنکس

عدالت غداری کی کارروائی کے لیے حکم صادر کرنے کی ’مجاز‘ نہیں: وکیل


پرویز مشرف راولپنڈی کی عدالت میں پیشی کے بعد

پرویز مشرف راولپنڈی کی عدالت میں پیشی کے بعد

پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ عدالت نے اگر ان کے موکل کے خلاف غداری کی کارروائی شروع کرنے کی وفاقی حکومت کو ہدایت جاری بھی کی تو یہ اس کے اختیارات سے تجاوز ہوگا۔

عدالت اعظمیٰ کے دورکنی بینچ کے سامنے بدھ کو سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے پر غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران، سینئیر وکیل احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین کے تحت صرف وفاقی حکومت کسی کے خلاف غداری کی کارروائی شروع کرنے کی مجاز ہے اور کوئی عدالت اس متعلق حکم تک صادر نہیں کر سکتی۔

’’آپ (عدالت عظمیٰ) کا اس معاملے میں حکم ریاست میں اداروں کے اختیارات کی تقسیم کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ آئین آپ کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف درخواست گزار جس عدالتی فرمان پر تکیہ کیے ہوئے ہیں اس مقدمے کا مرکزی نکتہ پرویز مشرف کے اقدامات نہیں بلکہ چند ججوں کی تقرری تھا اور نا ہی اس مقدمے میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی اس لئے یہ موجودہ درخواستیں نا قابل سماعت ہیں۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے احمد رضا قصوری نے کہا 2009ء کے عدالتی فیصلے کی بنیاد پر پرویز مشرف کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

’’آئین اور ریاست ساتھ ساتھ چلتے ہیں مگر کسی وقت آئین کو برقرار رکھنے کے لیے ریاست کمزور یا بکھر جائے تو ایسے آئین کو کیا کریں گے۔ آئین تو مشرقی پاکستان میں بھی لاگو تھا۔ تو پہلے ریاست کو بچانا ہے۔ آئیں بعد میں آتا ہے۔‘‘

پرویز مشرف کے وکیل کی طرف سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اس لیے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے تاہم اس میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری شامل نا ہوں کیونکہ ان کے بقول وہ اس معاملے میں براہ راست شریک ہیں۔

2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے آئیں معطل کرکے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی اور چیف جسٹس سمیت عدالت اعظمیٰ کے تمام ججوں کو نظر بند کر دیا تھا۔

وفاق کے وکیل عرفان قادر نے کہا نگراں وفاقی کابینہ اس بارے میں غور کر رہی ہے کہ مشرف کے خلاف غداری کی کارروائی کا آغاز ان کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں اور اس مقدمے کی تیاری کسی بھی طور حکومت کی غیر جانبداری پر اثرانداز تو نہیں ہوگی کیونکہ ان کے بقول عبوری حکومت کی اولین ترجیح آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جیسا کہ وزارت داخلہ انتخابات میں حصہ لینے والے ہزاروں امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے اس لیے اس معاملے پر عمل درآمد انتخابات کے بعد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس متعلق اپنا موقف عدالت میں پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت درکار ہوگا۔

جسٹس عارف خلجی نے کہا کہ ’’(نگراں) وزیر اعظم کے پاس فنڈز کی فراہمی کے اقدامات کے لیے وقت ہے مگر ہمارے احکامات پر عمل کے لیے نہیں۔‘‘

جس پر عرفان قادر نے عدالت عظمیٰ سے کہا کہ وزیراعظم کے بارے میں ایسے ریمارکس دینے سے گریز کیا جائے۔ ’’پرائم منسٹر، پرائم منسٹر آف پاکستان ہیں اور ان کا احترام ہم سب پر لازم ہیں۔ عدالت کو ایسے کلمات نہیں کہنے چاہیے۔‘‘

ایک درخوست گزار کے وکیل محمد اکرام چوہدری کا کہنا تھا ’’ہم عدالتی حکم مقدمہ درج کرنے کے لیے نہیں مانگ رہے بلکہ کمپلین کے عمل کو شروع کرنے کے لیے چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مشینری کو حرکت میں لائے۔ اگر نہیں لانا چاہتی تو کہہ دے پھر ہم دیکھیں گے کہ ہمارے لیے کیا قانونی راستہ ہے۔‘‘

وزارت قانون کے قائم مقام سیکرٹری سہیل قدیر صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ 1994ء میں سیکرٹری داخلہ کو کسی بھی شخص کے خلاف غداری کی کارروائی شروع کرنے کے اختیارات دے دیے گئے تھے اور ان کی طرف سے مقدمہ درج کرنے کے بعد ہی اس بارے میں خصوصی عدالت بنائی جا سکتی ہے۔ جس پر عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو پیر کو آئندہ سماعت میں پیشں ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

دریں اثناء راولپنڈی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف کی قبل از گرفتاری ضمانت میں 24 اپریل تک توسیع کردی۔
XS
SM
MD
LG