رسائی کے لنکس

غداری مقدمہ: مشرف کی عدالت میں حاضری ’غیر یقینی‘


پرویز مشرف (فائل فوٹو)

پرویز مشرف (فائل فوٹو)

وکیل استغاثہ طارق حسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پیر کو ہونے والی سماعت نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ملزم پر فرد جرم عائد کی جانی ہے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی ایک اہم سماعت پیر کو ہونے جا رہی ہے اور خصوصی عدالت نے ملزم کو بینچ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے انکار کی صورت میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر رکھے ہیں۔

پرویز مشرف راولپنڈی میں امراض قلب کے ایک فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ابھی تک 31 مارچ کو ان کی عدالت میں حاضری سے متعلق غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔

استغاثہ اور دفاع کے وکلا کی طرف سے بھی اس بارے میں کوئی واضح اور ٹھوس موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

وکلائے صفائی میں شامل چودھری فیصل حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال سمیت ابھی بہت سے دیگر عوامل کو دیکھنے کے بعد ہی ان کے موکل کی عدالت میں حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حاضری کے علاوہ کئی دیگر معاملات بشمول تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کے رویے پر بھی کئی سوالات نے جنم لیا ہے اور اسے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

’’ اگر ملزم پیش ہونے سے انکار کرے تو پھر گرفتاری کی بات کی گئی ہے تو انھوں (پرویز مشرف) نے تو کبھی انکارنہیں کیا اور نہ آئندہ کریں گے، اب جو سکیورٹی کے معاملات ہیں اور پھر یہ پچھلی دفعہ جو معاملہ ہوا کہ جج صاحت درخواست سنتے سنتے غصے سے اٹھ گئے۔ ۔ ۔ لہذا یہ معاملات صرف حاضری کی حد تک نہیں ہیں۔ اس سے علیحدہ معاملات بھی ہیں قانوناً جو کہ فیصلہ طلب ہیں اور ان پر فیصلہ باقی ہے لہذا صبح ان تمام معاملات کو دیکھا جائے گا۔‘‘

گزشتہ جمعرات کو جسٹس فیصل عرب یہ کہہ کر کمرہ عدالت سے رخصت ہوگئے تھے کہ اگر وکلائے صفائی کو ان پر اعتماد نہیں تو وہ اس مقدمے کی سماعت سے معذرت کرنے کو ترجیح دیں گے۔ تاہم چند گھنٹوں بعد ہی واپس آ کر یہ کہا کہ انھوں نے دفاع کے وکلائے کے رویے کی وجہ سے صرف ایک ہی دن کے لیے سماعت برخواست کی تھی۔

وکیل استغاثہ طارق حسن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پیر کو ہونے والی سماعت نہایت اہم ہے کیونکہ اس میں ملزم پر فرد جرم عائد کی جانی ہے۔

تاہم سابق فوجی صدر کی حاضری سے متعلق وہ بھی کچھ خاص پرامید دکھائی نہیں دیے۔

’’کل دیکھنا پڑے گا کہ کن حالات میں انھیں عدالت میں لایا جاسکتا ہے چونکہ ان کے ڈاکٹروں کا بھی مشورہ لینا پڑے گا، لیکن ڈاکٹروں نے ابھی تک کوئی ایسا ثبوت یا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا کہ ان کی طبیعت ناسازہے کہ وہ کورٹ نہیں آسکتے۔‘‘

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف تین نومبر 2007ء کو ملک کے آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست کی تھی جس کی سماعت خصوصی عدالت نے گزشتہ سال 24 دسمبر سے شروع کر رکھی ہے۔

تاہم اس دوران سکیورٹی خدشات اور ناسازی طبع کی بنا پر سابق فوجی صدر صرف ایک ہی بار عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں۔

ادھر مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پرویز مشرف کی عمر رسیدہ والدہ کو طبیعت بگڑ جانے کے بعد شارجہ کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پرویز مشرف اپنی علیل والدہ کی عیادت کے لیے متحدہ عرب امارات جانے کی درخواست کر چکے ہیں جن میں سے ایک بار کی گئی درخواست مسترد ہو چکی ہے جب کہ ایک استدعا پر ابھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔

پرویز مشرف پاکستان کے پہلے فوجی سربراہ ہیں جن کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ ملک کے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں اس مقدمے کی کارروائی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

بعض کے نزدیک پاکستان کو اس مقدمے سے کہیں زیادہ اہم اور گمبھیر مسائل کا سامنا ہے جن پر توجہ کی ضرورت ہے جب کہ بعض اسے ملکی تاریخ میں ایک اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے منطقی انجام تک پہنچانے پر زور دیتے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG