رسائی کے لنکس

شدت پسندوں سے حملے کا خطرہ ہے: مشرف کے وکلاء


سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حمایتی ان کی تصویر اٹھائے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے حمایتی ان کی تصویر اٹھائے ہوئے۔ (فائل فوٹو)

وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اس ذہنیت رکھنے والوں کا ہدف رہے ہیں اور وہ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔

پرویز مشرف کے وکلاء نے تین رکنی خصوصی عدالت کو بدھ کو بتایا کہ نا صرف ان کو بلکہ سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے الزامات کی سماعت کرنے والے ججوں کو بھی شدت پسندوں کے حملے کا خطرہ ہے۔

اس لیے ان کے مطابق عدالتی کارروائی کو کسی دوسرے ’’محفوظ مقام‘‘ پر منتقل کیا جائے۔

انہوں نے عدالت میں ایک خط پیش کیا جس میں وکلاء صفائی کے بقول شدت پسندوں نے اس مقدمے کی پیروی کرنے پر انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز مشرف کے وکیل فیصل حسین چوہدری نے پیر کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپیلکس پر مہلک حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’پرویز مشرف اس ذہنیت رکھنے والوں کا ہدف رہے ہیں اور انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ رفاقت اعوان کا ٹارگٹڈ قتل، انہیں نشانہ بنانا۔ کیا وہ وزیرستان سے گھوڑوں پر آئے تھے۔ نہیں۔ انہیں یہاں پناہ دی گئی، اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ تو کیا ایسے عناصر اسلام آباد میں موجود نہیں؟ تو ایسی صورت میں آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سکیورٹی خدشات بے جا ہیں۔‘‘

رواں ہفتے دارالحکومت میں ہونے والے مسلح افراد کے حملے میں ایک جج سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے۔ جج رفاقت اعوان نے پرویز مشرف کے خلاف 2007ء میں اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے نائب خطیب کے قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا مسترد کی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کو بند نہیں کیا جاسکتا۔

فوج کے سابق سربراہ نے ذاتی حیثیت میں خصوصی عدالت میں ایک اور درخواست بھی دائر کی جس میں کہا گیا کہ انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کا ادارہ برائے امراض قلب ملک کا بہترین اسپتال ہے مگر وہیں پر اینجوگرافی کے دوران مسائل کی وجہ سے ان کے والد کی موت واقع ہوئی۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ جب بھی ضرورت پڑی تو وہ عدالت میں پیش ہوں گے۔

استغاثہ کے ایک وکیل طارق حسن کا پرویز مشرف کی طرف سے درخواست اور ان کے وکلاء کی طرف سے سکیورٹی خدشات کو تاخیری حربے قرار دیتے ہوئے کہنا تھا۔

’’شروع سے درخواستوں پر درخواستیں دیتے آرہے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان پر فیصلے آرہے ہیں مگر جو موقع ملتا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عدالت وزیراعظم ہاؤس اور سپریم کورٹ کے پیچھے محفوظ مقام پر ہے۔ اگر انہیں باہر جانے دیا تو پھر تو عدالت کے دائرے اختیار سے نکل جائیں گے اور عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کر سکتی۔‘‘

خصوصی عدالت اس سے پہلے اپنے ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ پرویز مشرف کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق انہیں ایسا کوئی مرض نہیں جس پر انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

پرویز مشرف کے خلاف غداری کے الزامات کی سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردی گئی تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی طرف سے خصوصی عدالت کے ججوں کے ان سے متعلق متعصب سوچ رکھنے کے الزامات پر جمعہ کو فیصلہ سنایا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG