رسائی کے لنکس

ڈی ایچ اے کے سابق منتظم ریٹائرڈ بریگیڈیئر جاوید اقبال اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ کرنل صباحت قدیر بٹ کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا۔

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے (نیب) نے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے کروڑوں روپے کے گھپلے کے الزام میں دو سابق فوجی افسران اور ایک سول عہدیدار کو گرفتار کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کی طرف سے جمعرات کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ یہ گرفتاریاں فوج کی ایک ذیلی رہائشی اسکیم ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد فارم ہاؤس منصوبے سے متعلق فراڈ کے معاملے پر کی گئیں۔

ڈی ایچ اے کے سابق منتظم ریٹائرڈ بریگیڈیئر جاوید اقبال اور پراجیکٹ ڈائریکٹر ریٹائرڈ کرنل صباحت قدیر بٹ کو راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ڈی ایچ اے اسلام آباد کے الاٹمنٹ سرٹیفیکیٹ فروخت کر کے قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کی جس سے ادارے کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

تیسرے گرفتار کیے گئے شخص کا نام وسیم احمد بتایا گیا ہے جو کہ الیزیم ہولنڈنگز پاکستان لمیٹڈ نامی کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر ہیں اور انھیں لاہور سے گرفتار کیا گیا۔

ان پر بھی غیر قانونی طور پر الاٹمنٹ سرٹیفیکیٹس فروخت کرنے کا الزام ہے۔

ان تینوں ملزمان کو نیب کی عدالت میں پیش کر کے 29 جنوری تک جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ الیزیم ہولڈنگز بری فوج کے سابق سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کی کمپنی ہے اور انھیں بھی نیب کی طرف سے نیب کی کارروائی کا سامنا ہے۔

جنرل کیانی کے ایک اور بھائی ریٹائرڈ بریگیڈیئر امجد کیانی حالیہ دنوں میں جاری کیے گئے ایک بیان کے علاوہ نجی ٹی وی چینلز پر گفتگو میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ اس سارے معاملے اور اپنے بھائیوں کے کاروباری معاملات سے سابق آرمی چیف کا کوئی تعلق نہیں۔

XS
SM
MD
LG