رسائی کے لنکس

نیب چیئرمین پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ


نیب کے چیئرمین فصیح بخاری

نیب کے چیئرمین فصیح بخاری

فصیح بخاری کا یہ بھی الزام تھا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں عدالت نیب کو ایسی مخصوص تحقیقات کرنے کا کہہ رہی ہے جس میں سیاستدان ملوث ہوں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نیب کے چیئرمین فصیح بخاری پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے سربراہ کے وکیل نوید رسول مرزا نے بدھ کو عدالت میں پیش ہو کر بینچ پر اعتراض کرتے ہوئے استدعا کی کہ ان کے موکل کے خلاف توہین عدالت کی سماعت سے چیف جسٹس علیحدہ ہو جائیں یا اس مقدمے کو کسی دوسرے بینچ کو بھیج دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کو لکھے گئے خط میں نیب کے چیئرمین فصیح بخاری نے جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف شکایات کی تھیں اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ اس مقدمے کی سماعت نہ کریں۔

تاہم عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ خط میں چیف جسٹس کا نام کہیں موجود نہیں بلکہ سپریم کورٹ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ملک کے ایک معتبر ادارے پر الزامات لگائے گئے۔

جس پر نوید رسول کا کہنا تھا کہ اگر چیف جسٹس اس بینچ سے علیحدہ نہیں ہوتے جیسا کہ وہ اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان اور معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض کے مقدمے میں ہوئے تھے تو اس سے یہ تاثر اخذ کیا جائے گا کہ ’’عدالت پہلے سے اپنا ذہن بنائے بیٹھی ہے‘‘۔

عدالت اعظمٰی کی طرف سے نیب پر کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سمیت 16 افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے دباؤ کے بعد نیب چیئرمین نے دو ماہ قبل صدر آصف علی زرداری کو ایک خط لکھا تھا جس میں سپریم کورٹ پر الزام لگایا گیا کہ وہ نیب کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت کر رہی ہے۔

عدالت اعظمیٰ میں نیب یہ کہہ چکی تھی کہ وزیراعظم کے خلاف ادارے کے پاس اتنے موثر شواہد موجود نہیں کہ ان کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمہ دائر کیا جائے۔

فصیح بخاری کا یہ بھی الزام تھا کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں عدالت نیب کو ایسی مخصوص تحقیقات کرنے کا کہہ رہی ہے جس میں سیاستدان ملوث ہوں۔

بدھ کو ہونے والی سماعت میں جسٹس گلزار سعید کا کہنا تھا کہ متعلقہ خط میں استعمال ہونے والے الفاظ اور اس کا متن توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں اور اس میں پورے ادارے کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام ججوں نے ملک کے آئین پر حلف اٹھایا ہے اور اس کی پاسداری ان کی اولین ذمہ داری ہے۔

عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو کے سربراہ کے خلاف 2 اپریل کو توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کی جائے گی اور اسی وقت ان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب بھی دیا جائے گا۔

توہین عدالت ثابت ہونے کی صورت میں فصیح بخاری کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی قید ہو سکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG