رسائی کے لنکس

چیئرمین نیب کی تقرری کالعدم


چیئرمین نیب فصیح بخاری (فائل فوٹو)

چیئرمین نیب فصیح بخاری (فائل فوٹو)

عدالت عظمیٰ میں جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے منگل کو مختصر فیصلے میں کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق مشاورت کا عمل مکمل نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے قومی احتساب بیورو ’نیب‘ کے چیئرمین فصیح بخاری کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔


جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے منگل کو مختصر فیصلے میں کہا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے نیب کے 1999 کے قانون میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق مشاورت کا عمل نہیں کیا گیا اور یہ قانونی اختیار کے بغیر کی گئی۔


عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت بھی دی کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر نیب چیئرمین کے عہدے پر نئی تقرری کرے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے نئی حکومت کے بننے تک یہ ممکن نہیں۔


سپریم کورٹ اس سے پہلے بھی تقریباً انہی وجوہات پر پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نیب کے سربراہ کو ہٹا چکی ہے۔


پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک مرکزی رہنما چوہدری نثار علی خان نے سابق ایڈمرل فصیح بخاری کی تقرری کے خلاف عدالت عظمٰی میں درخواست دائر کر رکھی تھی کہ 2011 میں ’نیب‘ کے چیئرمین کی تقرری سے قبل اُن سے بطور قائد حزب اختلاف مشاورت نہیں کی گئی تھی۔


سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دفاع کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ نیب کے قانون میں کہیں بھی یہ موجود نہیں کہ مشاورت کا عمل نتیجہ خیز ہونا چاہیے یا کسی نام پر حزب اختلاف اور حکومت میں اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔


’’ہم نے سابق جسٹس مختار جنیجو کا نام دیا اس پر اعتراض۔ ہم نے سید دیدار حسین کا نام دیا اس پر بھی وہ معترض ہوئے۔ تو پھر فصیح بخاری کا نام دیا گیا ان کی ذات یا اہلیت پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا لیکن اب میں نہ مانوں کی رٹ لگا کر وہ کسی پر بھی نہیں مانتے تو صدر کیا کر سکتے ہیں۔‘‘


درخواست گزار کے وکیل کا موقف رہا کہ مشاورتی عمل نتیجہ خیز ہونا چاہیے بلکہ سپریم کورٹ کے ماضی کے ایک فیصلے کے تحت حکومت اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اتفاق رائے نا ہونے کی صورت میں تقرری کا حق چیف جسٹس کے پاس ہونا چاہیے۔


تاہم کئی سینئر قانون دان اس موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نیب کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ صرف اور صرف پارلیمان کا اختیار میں ہونا چاہیے۔


پاکستان مسلم لیگ (ن) حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد وفاق میں حکومت بنانے جا رہی ہے جبکہ سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نشستوں کے اعتبار سے نا صرف قومی اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت ہے بلکہ اسے سینیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہے۔

بعض مبصرین اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ آنے والی حکومت کو بھی نیب کے چیئرمین کی تقرری میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ قانونی اور آئینی ماہر ایس ایم ظفر کہتے ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف میں تناؤ اور عدالت کی اس معاملے میں مداخلت کو روکنے کے لئے نیب کے قانون میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے۔


’’کسی سابق نیب کے عہدیدار کو یا اسمبلی میں نشستوں کے اعتبار سے تیسری بڑی سیاسی جماعت کو اس مشاورتی عمل میں شامل کر لیا جائے تاکہ اکثریت کے ساتھ فیصلہ ہو سکے۔ اب کچھ کرنا پڑے گا ورنہ احتساب ایسے بگڑتا رہا تو ملک میں کرپشن پہلے ہی چھلانگیں مارہی ہے وہ اب کندھوں پر سوار ہو جائے گی۔‘‘


فصیح بخاری کو سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے ایک مقدمے کا بھی سامنا ہے۔ انہوں نے رواں سال صدر آصف علی زرداری کو ایک خط میں شکایت کی تھی کہ سپریم کورٹ ان کے کام میں ان کے بقول غیر ضروری مداخلت کر رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG