رسائی کے لنکس

نیب چیئرمین کے تقرر پر تاحال اتفاق نہ ہوسکا


وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی ملاقات

وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی ملاقات

جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں خورشید شاہ نے چیئرمین نیب کے لیے سابق چیف جسٹس میاں محمد اجمل کا نام پیش کیا جب کہ وزیراعظم کی طرف سے کوئی نیا نام تجویز نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے ’نیب‘ کے سربراہ کے تقرر کے لیے حکومت اور حزب مخالف کے درمیان تاحال کسی نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے اور اس سلسلے میں جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی بے نتیجہ رہی۔

رواں سال مئی میں نیب کے سابق چیئرمین فصیح بخاری کی تقرری کو عدالت عظمیٰ کی طرف سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے جب کہ سپریم کورٹ اس پر جلد نئی تقرری کے تنبیہہ بھی کر چکی ہے۔

گزشتہ ہفتے بھی وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر حکومتی عہیداروں نے حزب مخالف کے رہنما خورشید شاہ سے رابطہ کیا تھا۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں خورشید شاہ نے چیئرمین نیب کے لیے سابق چیف جسٹس میاں محمد اجمل کا نام پیش کیا جب کہ وزیراعظم کی طرف سے کوئی نیا نام تجویز نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس معاملے پر ہفتہ کو پھر ملاقات کی جائے گی۔

حزب مخالف اس سے قبل سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور سردار رضا کے نام تجویز کر چکی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے سابق جسٹس رحمت جعفری اور خواجہ ظہیر کے نام سامنے آئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے ایک مرکزی رہنما جہانگیر بدر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری پر جلد ہی اتفاق رائے ہو جائے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں چیئرمین نیب کی تقرری میں تاخیر کی ممکنہ وجہ ان کے نزدیک ماضی کے تجربات کے تناظر میں محتاط رویہ ہے۔

’’پہلے جو نیب چیئرمین رہے ہیں ان سے اکثر شکایات رہی ہیں، اداروں کو بھی اور پھر آپ نے دیکھا کہ سپریم کورٹ بھی خوش نہیں تھی۔ تو اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو بات تو سیاسی قائدین پر آئے گی، تو میرا خیال ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ متفقہ طور پر غیر جانبدار شخصیت کا انتخاب کیا جائے کچھ وقت لے رہے ہیں۔‘‘

حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے کہ وہ عدالت کے فیصلوں پر من و عن عملدرآمد کریں گے اور جلد ہی قومی احتساب بیورو کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔

پاکستان میں مختلف سرکاری منصوبوں میں اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کی خبریں منظرعام پر آتی رہی ہیں اور اسی تناظر میں اراکین پارلیمان اور شفاف طرز حکمرانی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں بھی یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار شخصیت کا بطور چیئرمین نیب جلد از جلد تقرر کیا جائے۔
XS
SM
MD
LG