رسائی کے لنکس

قومی احتساب بیورو: ریاستی ادارے بداعنونی و بد انتظامی مخالف نظام متعارف کریں


چیئرمین نیب فصیح بخاری (فائل فوٹو)

چیئرمین نیب فصیح بخاری (فائل فوٹو)

چیئرمین نیب فصیح بخاری نے بتایا کہ بد انتظامی، وسائل کے بے جا استعمال اور بداعنونی سے پاکستان کو روزانہ سات ارب روپے کا خسارہ ہوتا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مختلف ریاستی اداروں میں بد انتظامی اور ان کی غیر فعال کارکردگی کے 172 واقعات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان اداروں کے حکام سے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیئرمین فصیح بخاری نے اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان اداروں کے اعلیٰ افسران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے اپنے اداروں میں فعال اور شفاف نظام متعارف کریں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بد انتظامی، وسائل کے بے جا استعمال اور بداعنونی سے پاکستان کو روزانہ سات ارب روپے کا خسارہ ہوتا ہے۔

فصیح بخاری کا کہنا تھا کہ پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے مطابق کمزور اور غیر فعال ملکی اداروں کی ڈھارس بندھانے کے لیے تقریباً 350 ارب روپے سالانہ خرچ ہوتے ہیں جبکہ حکومت کو توانائی کے بحران سے 960 ارب سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

’’یہاں اسکول اور اسپتال ہیں جو صرف کاغذوں پر موجود ہیں اور لوگ تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ہمارے وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔‘‘

نیب کے چیئرمین نے کہا کہ بیشتر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جن میں ڈاکٹر، وکلاء، دکاندار وغیرہ شامل ہیں ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جس سے ملکی معیشت پر برے اثرات ہوتے ہیں۔

’’اگر آپ ٹیکس کے نظام کو درست طریقے سے نہیں چلا رہے تو یہ بھی بدعنوانی ہے۔‘‘
پاکستان میں محصولات کی شرح مجموعی ملکی پیداوار کی نسبت صرف 9 فیصد ہے جو کہ دنیا کے دیگر ممالک سے بہت کم ہے۔

ٹیکس وصول کرنے والے ادارے فیڈرل بیورو آف ریونیو کے مطابق ملک میں صرف ایک فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار انویسٹیگیشن رپورٹنگ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے صرف ایک تہائی قانون سازوں نے گزشتہ سال ٹیکس ادا کیا۔

نیب کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بظاہر بیوروکریسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’بدعنوانی کی ایک نہر چل رہی ہے۔ اس میں مچھلیوں کو پکڑتے جائیں وہ نہر تو چلتی جائے گی۔ اس نہر کو روکنا ہے۔ ان کے منبع پر قابو پانا ہے۔ اس نل کو بند کرنا ہے جہاں سے نہر کو پانی آتا ہے۔‘‘

حال ہی میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت پاکستان میں بدعنوانی کی صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور بدعنوان ترین ملکوں کی فہرست میں یہ33 ویں نمبر پر آگیا ہے۔

حکومت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مسترد کر چکی ہے اور گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے ایک چار رکنی کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جو کہ بد عنوانی پر رپورٹس کا جائزہ لے کر اس سے متعلق حکومت کو کارروائی کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گی۔
XS
SM
MD
LG