رسائی کے لنکس

کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات کی نگرانی عدالت کرے گی


Supreme Court of Pakistan

Supreme Court of Pakistan

چیف جسٹس افتحار محمد چوہدری نے عدالت اعظمیٰ کے ایک بینچ کو ہدایت دی کہ نیب کے تفتشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت پر ہونے والی تحقیقات سے متعلق جمعرات سے سماعت کرے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) کے افسر کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کی نگرانی کی ذمہ داری عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ کو سونپ دی ہے۔

’رینٹل پاور کیس‘ میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدالت اعظمیٰ کے دو رکنی بینچ کو ہدایت دی کہ نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت پر ہونے والی تحقیقات سے متعلق سماعت جمعرات سے کرے۔

کورٹ نے یہ احکامات عدالت اعظمیٰ کے رجسٹرار کی طرف سے ایک خط پر دیے جس میں انہوں نے کہا کہ کامران فیصل کے عزیر و اقارب اور ساتھیوں نے حکومت کے قیام کردہ عدالتی کمیشن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کمرہ عدالت میں رجسٹرار کا خط پڑھتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی کے کیس میں سیاست دان اور مقننہ کے افراد ملوث ہیں اس لیے عام تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ کمیشن غیر جانبدار نہ ہوگا۔

اپنے احکامات میں چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے دیانتدار افسران کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

کامران فیصل

کامران فیصل

رینٹل پاور کیس کی تفتیش کرنے والے کامران فیصل گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد میں ایک سرکاری ہاسٹل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس خود کشی قرار دیا گیا۔ مگر کامران فیصل کے اہل خانہ اور دوستوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خود کشی نہیں کر سکتا۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل کریم خان آغا نے عدالت کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں سے متعلق تمام تحقیقات معطل کر دی ہیں اور کامران فیصل کی ہلاکت پر بننے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد تحقیقات دوبارہ شروع کردی جائیں گی۔

نیب کے ڈائریکٹر جنرل مصدق عباسی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت رینٹل پاور کیس کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل افسران شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جس وجہ سے تحقیقات معطل کی گئیں ہیں۔

’’اگر آپ ذہنی طور سے تیار نہیں اور پریشان ہیں تو آپ اپنی تحقیقات کے ساتھ کس طرح انصاف کر سکیں گے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ لوگوں کو دوبارہ ذہنی طور پر وہاں لایا جائے وہ انصاف سے تفتیش کرسکیں۔‘‘

مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسران کے لیے محفوظ رہائشگاہ کی فراہمی کے علاوہ انہیں باقاعدہ تربیت کے بعد اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ جو بھی افسر کسی دھمکی کی وجہ سے ذہنی دباؤ میں ہو گا اسے متعلقہ تفتیشی عمل سے علیحدہ کردیا جائے گا۔

تاہم حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور رینٹل پاور کیس میں ایک درخواست گزار خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نیب پر الزام لگایا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرنے میں تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔

’’حکومت اب جانے والی ہے اور پھر الیکشن کی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کو مزید لمبا کیا جائے تاکہ اس میں جو شدت اور جو اس کی اہمیت ہے وہ کم ہوجائے۔‘‘

نیب کے وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ رینٹل پاور کیس میں شفاف اور آزادانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عدالت نے ’رینٹل پاور کیس‘ میں عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق سماعت منگل تک ملتوی کر دی ہے۔
XS
SM
MD
LG