رسائی کے لنکس

نیب چیئرمین کے تقررپر اپوزیشن کے تحفظات ،حکومت کا دفاع


وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان سے نیب کے چیئرمین کے لیے زیرغور ناموں پر مشاورت کی گئی تھی

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان سے نیب کے چیئرمین کے لیے زیرغور ناموں پر مشاورت کی گئی تھی

اپوزیشن کی طرف سے قومی احتساب بیورو کے نئے سربراہ کی تقرری مسترد کیے جانے اور لاہورہائی کورٹ میں اس کو چیلنج کیے جانے کے بعد یہ تقرری متنازع حیثیت اختیار کر گئی ہے جب کہ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے ریٹائرڈ جسٹس دیدار حسین کو میرٹ پر اور تمام قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد اس ادارے کا سربراہ بنایا گیا ہے۔

اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ نیب کے سربراہ کے طور پرایسے شخص کا تقرر کیا جانا چائیے تھا جو مکمل طور پر غیر جانب دار ہو اور جماعت کے مطابق دیدار حسین اس عہدے کے اہل نہیں کیوں کہ وہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔

اپوزیشن یہ الزام عائد کر رہی ہے کہ حکمر ان جماعت نے اس عہدے کے لیے اپنے حمایتی کا تقرر اس لیے کیا ہے کہ وہ اس کے پارٹی رہنماؤں کے خلاف بد عنوانی کے مقدمات کو دبا کر رکھیں اور حزب اختلاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا سکے۔

بیرسٹر اقبال جعفری نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست کے ذریعے دیدار حسین کی تقرری کو پہلے ہی چیلنج کر دیا ہے جب کہ مسلم لیگ نون کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخوست دائر کرے گی ۔

چیئرمین نیب کا عہدہ لگ بھگ تین ماہ سے خالی تھا اور سپریم کورٹ نےاس عہدے پر تقرری کے لیے حکومت کو جو مہلت دی تھی وہ ختم ہونے کے قریب تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما صدر آصف علی زرداری کی طرف سے نیب کے نئے چیرمین کی تقرری کا بھر پور دفاع کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دیدار حسین ایک ایمان دار اور دیانتدار شخص ہیں اور وقت یہ ثابت کرے گا کہ وہ اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان سے نیب کے چیئرمین کے لیے زیرغور ناموں پر مشاورت کی گئی تھی لیکن انہوں نے کسی نام پر اتفاق نہیں کیا جس کے بعد صدر نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت فیصلہ کیا۔

پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی ریٹائرڈ جسٹس فخر النسا کا کہنا ہے کہ صرف پارٹی کے ساتھ وابستگی اس بات کو ظاہر نہیں کرتی کہ کوئی شخص اپنے فرائض صحیح طور انجام نہیں دے گا ۔

دیدار حسین کی تقرری پر تنازع ایک ایسے وقت پر پیدا ہوا ہے جب قومی مصالحتی آرڈیننس کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد اور صدر زرداری کے خلاف سوئس مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے معاملات پر حکومت اور عدلیہ کے درمیان تناؤ دکھائی دے رہا ہے۔

حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کا بھی کہنا ہے کہ ان سے نیب کےسربراہ کے تقرّر پر مشاورت نہیں کی گئی ۔

ریٹائرڈ جسٹس دیدار حسین سندھ ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے جج رہ چکے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر وہ دو مرتبہ سندھ اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصّہ لے چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG