رسائی کے لنکس

بدعنوانی کے بڑے مقدمات سے متعلق ترمیم شدہ فہرست عدالت میں جمع


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس فہرست میں بھی ملک کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف اور ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت کئی موجودہ اور سابق اہلکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی میں ’قومی احتساب بیورو‘ کی طرف سے ملک میں بدعنوانی کے 150 بڑے مقدمات کی ایک ترمیم شدہ فہرست پیر کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ہے۔

اس فہرست میں بھی ملک کے موجودہ وزیراعظم نواز شریف اور ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت کئی موجودہ اور سابق اہلکاروں کے نام بھی شامل ہیں۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ قومی احتساب بیورو یعنی ’نیب‘ کی کارکردگی سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

’نیب‘ کی طرف سے فراہم کردہ فہرست کے بعد اب اس بارے میں سماعت بدھ سے شروع ہو گی۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو کو بدعنوانی کے بڑے مقدمات کی فہرست جمع کروانے کی ہدایت کی تھی، جس کے جواب میں 7 جولائی کو سپریم کورٹ میں ایک فہرست جمع کروائی گئی تاہم عدالت نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی فہرست کے مطابق قومی احتساب بیورو کی طرف سے ملک کی اہم شخصیات کے خلاف مالی بے ضابطگیوں، اراضی کی غیر قانونی طور پر خریدو فروخت اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات اور تفتیش کی جا رہی ہے۔

اختیارات کا مبینہ ناجائز استعمال کرنے والوں میں نیب کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی شامل ہیں جن پر لاہور کے قریب واقع رائے ونڈ سے جاتی عمرہ میں اپنے گھر تک سڑک کی تعمیر کے لیے 12 کروڑ اور 60 روپے خرچ کرنے کا الزام ہے اور نیب کے مطابق اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اور اسحاق ڈار پر اپنے ذرائع سے زائد اثاثہ جات بنانے کے الزام کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

ایسے ہی الزامات کے تحت سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف بھی مقدمہ زیر سماعت ہے جب کہ سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین پر بھی بتائے گئے ذرائع سے زائد آمدن رکھنےکے الزام کی انکوائری ہو رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG