رسائی کے لنکس

واقعے کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرار داد منظور کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے نو غیر ملکی سیاحوں سمیت 11 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ ضلع دیا میر میں نانگا پربت کے بیس کیمپ کے قریب پیش آیا جہاں ہفتہ کو رات دیر گئے خیموں میں مقیم سیاحوں پر نامعلوم حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔

بونر نالے کے قریب قائم بیس کیمپ میں فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔

مرنے والوں میں پانچ کا تعلق یوکرائن، تین کا چین اور ایک کا روس سے بتایا گیا ہے جب کہ دو پاکستانی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اتوارکو اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آور گلگت اسکاؤٹس کی وردیوں میں ملبوس تھے۔

’’انھیں (حملہ آوروں کو) اس جگہ کا علم نہیں تھا، وہ دو گائیڈز کو یرغمال بنا کر یہاں پہنچے تھے۔ ان میں سے ایک تو مارا گیا دوسرے کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔‘‘

وزیرداخلہ نے بتایا کہ سیاحوں کو سکیورٹی دیا میر تک فراہم کی جاتی ہے اور جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہاں صرف کوہ پیما، ان کے گائیڈز یا پھر پاکستانی فوج ہی ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے کے تناظر میں گلگت بلتستان کے اعلٰی ترین عہدیدار چیف سیکرٹری اور پولیس کے سربراہ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اتوار کی سہ پہر اسلام آباد منتقل کردی گئیں جہاں سے انھیں ان کے ممالک کو روانہ کر دیا جائے گا۔

ادھر دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین اور یوکرائن کے سفیروں سے اس واقعے پر حکومت پاکستان کی طرف سے تعزیت کی گئی ہے۔

صدر اور وزیراعظم نے واقعے کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دیتے ہو اس کی تفصیلی تحقیقات اور ملوث عناصر کی جلد گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چین اور دیگر دوست ممالک سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو خراب کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس واقعے پر ایک مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوراً ’’ریاست دشمن‘‘ عناصر کے خلاف ضروری اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں تمام سکیورٹی اداروں کے درمیان روابط کو موثر اور بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

سیاحوں کی میتوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسلام آباد کے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے

سیاحوں کی میتوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسلام آباد کے اسپتال منتقل کیا جارہا ہے


قرارداد کا متن پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف رکن قومی اسمبلی مخدوم شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ’’یہ دنیا میں پاکستان کے تشخص کو مجروح کرنے کی دانستہ کوشش ہے تاکہ یہ دکھایا جا ئے کہ پاکستان سیاحوں کے لیے غیر محفوظ ہے۔‘‘

حزب اختلاف کے قانون سازوں کی طرف سے اس واقعے پر حکومت پر ہونے والی تنقید پر وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی انتظامیہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہے تاہم انہیں اس لیے کچھ وقت درکار ہوگا۔

’’مجھے بتائیں کس واقعے کے بعد چیف سیکرٹری اور آئی جی کو معطل کیا گیا؟ دس سال سے واقعات ہو رہے ہیں ایک واقعہ بتائیں جس مین انکوائری ہوئی؟ (پاکستانی فوج کے سربراہ) جنرل کیانی کے الفاظ ہیں کہ ایک ہی پالیسی ہوگی اور وہ حکومت کی ہوگی۔‘‘

حکومتی عہدیداروں کے مطابق ملک کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے درپیش شدت پسندی کے تدارک کے لیے ایک نئی قومی سلامتی کی پالیسی تیار کی جارہی ہے جس میں خفیہ ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین روابط کو فعال و موثر بنانے پر غیر معمولی توجہ دی جائے گی۔

قدرتی حسن سے مالامال پاکستان کا یہ شمالی علاقہ نسبتاً پرامن تصور کیا جاتا رہا ہے جہاں دنیا بھر کے علاوہ ملک بھر سے بھی لوگ سیاحت کے لیے آتے ہیں۔ نانگا پرپت اور کے ٹو جیسی برف پوش بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں کی موجودگی بھی اس علاقے کو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے اہم بناتی ہے۔

حالیہ برسوں میں یہاں تشدد کے چند واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل بابو سر پاس کے قریب ایک مسافر بس پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 25 سے زائد افراد کو ہلاک کردیا تھا جن میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔

پاکستانی عہدیدار ان مہلک کارروائیوں کی ذمہ داری سرحد پار افغانستان میں چھپے پاکستانی شدت پسند فضل اللہ کے ساتھی اور القاعدہ سے منسلک جنگجوؤں پر عائد کر چکے ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG