رسائی کے لنکس

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق


منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق

پاکستان اور افغانستان نے کہا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے جلد مشترکہ کارروائیاں شروع کی جائیں گی ۔

دونوں ملکوں کے انسداد منشیات کے وزراء نے اس منصوبے کا اعلان جمعرات کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے تعاون سے ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس کے بعد کیا جس میں ایران نے بھی شرکت کی۔

اب تک ایران نے پاکستان اور افغانستان کے ساتھ دو طرفہ بنیادوں پر انسداد منشیات کی مشترکہ کارروائیاں کی ہیں لیکن اسلام آباد اور کابل کے درمیان یہ اشتراک دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق



تاہم نہ توپاکستانی وزیر ارباب محمد ظاہر اور نہ ہی اُن کے افغان ہم منصب ضرار احمد مقبل عثمانی نے واضح طور پر یہ بتا یا کہ منشیات کے انسداد کے لیے مشترکہ کارروائیاں کب شروع کی جائیں گی اور وہ کیا وجوہات تھیں جن کی بنا پر اب تک ایسا تعاون ممکن نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد میں ہونے والے دو روزہ اجلاس میں ایرانی وزیر برائے انسداد منشیات نے اپنے ملک کی نمائندگی کی اور اس کا مقصد خطے میں منشیات کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے تعاون سے تینوں ملکوں کے درمیان مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ہے۔

سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری ہونے والے 21نکاتی مشترکہ اعلامیے میں تینوں اسلامی ممالک نے منشیات کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو موثر بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔ مزید برآں معلومات کے تبادلے کے لیے جدید مواصلاتی رابطے قائم کرنے اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں متعلقہ حکام کے درمیان مربوط رابطوں کے لیے خصوصی دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات تینوں ممالک کواس مقصد کے حصول کے لیے معاونت فراہم کرے گا جب کہ ابتدائی طور پر پاکستان کے سرحدی علاقے طورخم میں ایک خصوصی رابطہ دفتر قائم کیا جا چکا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ اگر تورخم میں قائم کیے اس دفتر کے خاطر خواہ نتائج نکلے توانسداد منشیات کے لیے افغان سرحد سے ملحقہ بلوچستان میں بھی ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے۔

پاکستانی وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری طارق کھوسہ نے بتایا کہ افغانستان سے پاکستان اور ایران کے راستے دیگر ممالک تک منشیات کی سمگلنگ روکنا سب کی اجتماعی ذمہ دراری ہے ۔ اُنھوں نے تہران میں تینوں ممالک کا مشترکہ علاقائی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے جہاں منشیات سے متعلق خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور اب اس خصوصی مرکز کے دائر کار کو بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق

منشیات کے انسداد کے لیے پاکستان اور افغانستان مشترکہ کارروائیوں پر متفق



افغانستان افیون کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن اس غیر قانونی منشیات کا محض پانچ فیصد مقامی منڈی میں فروخت ہوتا ہے جب کہ باقی پاکستان اور ایران کے راستے خلیجی اور مغربی ملکوں کو سمگل کیا جاتا ہے۔

ایرانی اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی اس کھیپ کا کچھ حصہ مقامی منڈیوں میں فروخت ہونے سے حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں میں نشے کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو ا ہے۔

XS
SM
MD
LG