رسائی کے لنکس

پاکستان کی قومی اسمبلی کے پانچ سالوں پر ایک نظر


قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف ایک ، ایک بار تبدیل ہوئے جب کہ سبھی سیاسی جماعتیں اس پانچ سالہ دور میں کسی نہ کسی وقت حکومت میں شامل رہیں۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی قومی اسمبلی 16 مارچ کی نصف شب تحلیل ہو جائے گی۔

17 مارچ 2008 کو معرض وجود میں آ نے والی 13 ویں قومی اسمبلی کے پانچ سالہ دور میں50 اجلاس منعقد ہوئے جن میں وسیع پیمانے پر قانون سازی کی گئی جس میں 1973ء کے آئین کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنے،صوبائی خود مختاری دینے، آزاد الیکشن کمیشن، انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے قیام، حق نمائندگی ایکٹ، نیشنل کمیشن فار اسٹیٹس آف ویمن، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، اسلام آباد ہائیکورٹ کے علاوہ 5 مالیاتی بل شامل ہیں۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے پانچ سالوں میں پانچ مرتبہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ ان کے علاوہ ترکی کے وزیر اعظم نے دو مرتبہ اور چین کے وزیراعظم نے ایک مرتبہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاسوں سے خطاب کیا۔

قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لئے 222 سرکاری اور205 نجی بلز متعارف کرائے گئے جن میں سے 115 سرکاری اور19 نجی بل منظور کئے گئے اور تین آئینی ترمیمی بل بھی منظور کیے جبکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں پانچ بل منظور کئے گئے۔

پانچ سالہ دور میں85 قراردادیں منظور کی گئیں جن میں 43 سرکاری اور 42 نجی قراردادیں شامل ہیں اس عرصے کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 8مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے۔
9 اراکین اسمبلی اس پانچ سالہ دور میں انتقال کر گئے جن میں سابق صدر سردار فاروق لغاری ، جام محمد یوسف ، فوزیہ وہاب ،شہباز بھٹی ،تاج محمد جمالی ، عظیم دولتانہ ،فیض محمد خان ، عبد المتین خان اور مہر النساء آفریدی شامل ہیں جبکہ کئی ارکان کو دہری شہریت اور دیگر وجوہات کی بنا پر اپنی نشستیں چھوڑنا پڑیں جس کے باعث مجموعی طور پر 23 ضمنی انتخابات منعقد ہوئے۔

پانچ سال کے دوران ایوان میں سب سے زیادہ بحث ملک میں امن و امان، بلوچستان، توانائی کے بحران، پٹرولیم مصنوعات اور اشیاءخورونوش کی قیمتوں میں اضافے پر کی گئی جبکہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کے خلاف شدید ترین احتجاج کیا گیا۔

نئے صوبے کی تخلیق، چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری، آئینی اصلاحات، اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی، کشمیر، انسانی حقوق کے قومی کمیشن، خواتین کے حوالے سے قومی کمیشن، قومی سلامتی اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے پارلیمنٹ کی خصوصی 9 کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جبکہ توانائی کے بحران، میڈیا کو دھمکیوں سمیت دیگر اہم امور پر بھی قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

2008ء کےعام انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہ ہو سکی اور سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین نے مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی ۔

قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف ایک، ایک بار تبدیل ہوئے جب کہ سبھی سیاسی جماعتیں اس پانچ سالہ دور میں کسی نہ کسی وقت حکومت میں شامل رہیں۔ اسمبلی کے آغاز پر مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل رہی اس وقت مسلم لیگ (ق) کے سینیئر رہنما پرویز الٰہی قائد حزب اختلاف رہے بعد ازاں مسلم لیگ (ن) حکومت سے علیحدہ ہو گئی تو مسلم لیگ (ق) تھوڑے عرصے کے بعد حکومت میں شامل ہو گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ نے متعدد بار حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کیا مگر اس پر عمل درآمد نہ کر سکی تاہم وہ چار سال 11 ماہ حکومت میں رہنے کے بعد آخری ماہ حکومت سے علیحدہ ہو گئی۔ جمعیت علماءاسلام (ف) بھی حکمران اتحاد میں شامل رہی اور بعد ازاں حزب اختلاف میں آ گئی۔ عوامی نیشنل پارٹی اور فاٹا کے اراکین شروع سے آخر تک حکومت کے ساتھ رہے۔ مسلم لیگ فنکشنل بھی حکومت کا حصہ رہی اور پھر اپوزیشن میں آ گئی۔

پانچ سال میں اراکین کی ایک بڑی تعداد نے وفاداریاں بھی تبدیل کیں ان میں معروف نام مخدوم جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، سردار آصف احمد علی، سردار سیف الدین کھوسہ، شیخ وقاص اکرم، سردار شاہ جہان یوسف، راجہ محمد اسد، راجہ محمد صفدر ریاض حسین پیرزادہ، ظفر علی شاہ اور دیگر شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں خواتین ارکان نے بھی فعال کردار ادا کیا اور خصوصی طور پر خواتین ، بچوں اور انسانی حقوق کی قانون سازی کے بل ایوان میں پیش کئے اراکین کے نجی بلوں میں خواتین کے بلوں کی تعداد 3 گنا زیادہ تھی۔

سا ل2008 میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اسپیکر کے عہدے پر منتخب ہوئیں جنہیں اسلامی دنیا کی پہلی خاتون اسپیکر ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ملکی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ حزب مخالف کے ارکان بھی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔

قومی اسمبلی میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی ایک بار تبدیل ہوئے۔ چوہدری نثار علی خان تقریباً ساڑھے 3 سال تک قائد حزب اختلاف کے ساتھ ساتھ پی اے سی کے چیئرمین بھی رہے جبکہ ان کے بعد پیپلز پارٹی کے ندیم افضل گوندل اس عہدے پر فائز رہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں نے بھی فعال کردار ادا کیا اور ان کی رپورٹس ایوان میں تسلسل کے ساتھ پیش کی جاتی رہیں۔

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عسکری قیادت نے بند کمرے کے اجلاس میں ارکان پارلیمان کو قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ دی
XS
SM
MD
LG