رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی کے لگ بھگ دو سو ممبران بشمول خواتین اراکین نے جمشید دستی کی رکنیت معطل کرنے کے لیے تحریک استحقاق جمع کروائی ہے۔

پاکستان کے ایوان زیریں کے لگ بھگ دو سو ممبران بشمول خواتین اراکین نے اپنے ایک ساتھی قانون ساز جمشید دستی کی رکنیت معطل کرنے کے لیے تحریک استحقاق جمع کروائی ہے۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جمشید دستی نے قانون سازوں کے لیے مختص رہائش گاہ "پارلیمنٹ لاجز" میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کا الزام عائد کر کے خواتین ارکان سمیت تمام پارلیمنٹرینز کی توہین کی۔

اطلاعات کے مطابق اس درخواست پر تمام خواتین ارکان اسمبلی نے دستخط کیے۔

جمشید دستی گزشتہ حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابسطہ تھے لیکن 2013ء کے عام انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت میں مظفرگڑھ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

رواں سال کے اوائل میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں شراب نوشی سمیت غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی ہیں اور اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس ثبوت بھی موجود ہیں۔

ان کے اس الزام کے بعد ایوان میں اس پر خاصا شور و ہنگامہ ہوا اور قومی اسمبلی کے اسپیکر نے جمشید دستی سے کہا تھا کہ اگر یہ الزام غلط ثابت ہوا تو اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے۔
XS
SM
MD
LG