رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں ڈرون سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت


پاکستان کے ایوان زیریں میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں ایک بار پھر امریکہ سے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پاکستان کے ایوان زیریں نے ایک متفقہ قرار داد منظور کی ہے جس میں رواں ہفتے ہی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں ڈرون حملوں سے متعلق منظور کی گئی قرارداد کی حمایت کی گئی۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداد میں ایک بار پھر امریکہ پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے فوری طور پر بند کرے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں ڈرون طیاروں کو عالمی قوانین کے تابع رہتے ہوئے استعمال کرنے کا کہا گیا۔

اس قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات بشمول ڈرون کا استعمال کرتے وقت عالمی قوانین، انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے قومی اسمبلی سے قرارداد کی منظوری کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا ’’پارلیمنٹ نے جو قرارداد منظور کی اس میں بین الاقوامی قرارداد جو جنرل اسمبلی نے پاس کی اسے اچھا کہا گیا کہ پوری دنیا نے پاکستان کی آواز میں آواز کو ملایا ہے، یہ ایک بڑی کامیابی ہے پاکستان کی۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

نے بھی جمعہ کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ڈرون سے متعلق قرارداد کو ایک کامیاب قرار دیا۔
تسنیم اسلم نے کہا کہ ’’ہمارا موقف اب واضح اور بھرپور ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ اسی طرح کی ایک قرار داد جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں جمع کرائی جائے اور توقع ہے کہ اُسے بھی منظور کر لیا جائے گا۔‘‘


اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب مسعود خان کا کہنا ہے کہ جنرل اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد ان کے ملک کے موقف کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہے۔
جمعہ کو سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انھوں نے قرارداد کے متن کے تین چیدہ نکات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا۔

’’پہلا یہ کہ دہشت گردی کے خلاف جو بھی اقدامات کیے جائیں وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونے چاہیئں، پھر یہ کہا گیا کہ کونسے دو قوانین ہیں جنہیں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، پہلا قانون ہے کہ تناسب کا اور دوسرا امتیاز کا۔ تیسری اہم بات یہ تھی کہ جو بھی کارروائی کی جائے دہشت گردوں کے خلاف اور ڈرون حملے اگر استعمال کیے جائیں تو اس میں جس ریاست میں یہ کارروائی کی جاتی ہے اس کی مرضی شامل ہونی چاہیے۔‘‘

مسعود خان کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی میں ڈرون کے موضوع پر بحث اور قانون سازی جاری رہے گی۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں آئندہ سال مکمل رپورٹ پیش کیے جانے کے تناظر میں اس ضمن میں مزید قراردادیں بھی سامنے آسکتی ہیں۔


امریکہ باور کرتا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے محفوظ پناہ گاہیں قائم کررکھی ہیں جہاں سے وہ سرحد پار افغانستان میں امریکہ اور اتحادی افواج پر ہلاکت خیز حملے کرتے رہتے ہیں۔ ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں یعنی ڈرون کا استعمال کرتا ہے۔

گزشتہ ماہ ایک ایسے ہی ڈرون حملے میں شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ حکیم اللہ محسود بھی مارا گیا تھا۔

پاکستان ان ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے مضر قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG