رسائی کے لنکس

نیٹو کے حملے: ہلاکتوں پر امریکہ کی معذرت


نیٹو کے حملے: ہلاکتوں پر امریکہ کی معذرت

نیٹو کے حملے: ہلاکتوں پر امریکہ کی معذرت

سفیر نے کہا کہ اس طرح کے افسوس ناک حادثات سے بچنے کے لیے، آئندہ امریکہ، حکومتِ پاکستان سے رابطے بڑھائے گا

پاکستان میں امریکی سفیراین ڈبلیو پیٹرسن نے30ستمبر کو ہو نے والے نیٹو کے حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیتے ہوئے امریکی عوام کی طرف سے پاکستان سے معذرت کی ہے۔ حملے میں پاکستانی فرنٹیئرکورکے دو اہل کار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے تھے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں سفیر نے کہا کہ اِس واقعے کےحوالے سے کی گئی مشترکہ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ غلطی کے باعث امریکی ہیلی کاپٹروں نےپاکستانی فرنٹیئر کور اسکاؤٹس کو پیچھا کیے جانے والےباغی تصور کیا تھا۔

سفیر نے کہا کہ ہم پاکستان اورفرنٹیئر کور کے ہلاک یا زخمی ہونے والے اہل کاروں کے اہلِ خانہ سے اپنی دل کی گہرائیوں سے معذرت کا اظہار کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہادر سکیورٹی فورسز ایک ایسی جنگ میں ہمارے اتحادی ہیں جس سے پاکستان اور امریکہ دونوں کو خطرہ لاحق ہے۔

سفیر نے کہا کہ اس طرح کے افسوس ناک حادثات سے بچنے کے لیے، آئندہ امریکہ، حکومتِ پاکستان سے رابطے بڑھائے گا۔

یاد رہے کہ اِس واقعے پر پاکستان نے امریکہ سےباقاعدہ احتجاج کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ نیٹو ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کی سرحد عبور کرکے فرنٹیئر کور کی ایک چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں میں فرنٹیئر کور کے فوجی ہلاک ہوئے،اور یہ پاکستان کی سرزمین پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دوسری طرف، نیٹو کے بیان میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی افواج کے ایک ہیلی کاپٹر نے افغانستان میں حملہ کرکے پاکستانی سرحد پار کرکے بھاگنے کی کوشش کرنے والے شدت پسندوں پر فائر کھولا تھا۔ تاہم بعد میں نیٹونےاِس حملے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ان حملوں کے بعد پاکستان نے افغان سرحد پر طورخم بارڈر کو بند کردیا ہے۔ اس بارڈر کے ذریعے افغانستان میں نیٹو کی افواج کو فیول اور دیگر اشیاء سپلائی کی جاتی ہیں۔ بارڈر بند ہونے کے بعد نیٹو سپلائی قافلوں پر حملوں میں درجنوں ٹرک تباہ کیے جاچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG