رسائی کے لنکس

نیٹو سپلائی لائنز کی ممکنہ بحالی پر ملا جلا رد عمل

  • یاسر منصوری
  • مقصود مہدی

پاک امریکہ تعلقات میں تقریباً چھ ماہ کی سرد مِہری کے بعد بہتری کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں اور سلالہ کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے مہلک حملے کے بعد سے معطل نیٹو سپلائی لائنز کی جلد بحالی سے متعلق قیاس آرائیاں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی و اتحادی افواج کو رسد کی پاکستان کے راستے ترسیل کے بارے میں متعلقہ فریقین مذاکرات میں مصروف ہیں اور اُنھیں یہ عمل جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ پارلیمان کے وضع کردہ رہنما اُصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جا سکے۔

نیٹو ساز و سامان کی کراچی سے افغانستان ترسیل سے منسلک ٹرانسپورٹرز نے سپلائی لائنز کی ممکنہ بحالی پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

کراچی میں ایک آئیل ٹینکر کے ڈرائیور بشیر احمد نے کہا کہ نیٹو سپلائی لائنز کے بارے میں فیصلے کی بنیاد پاکستان کے عوام کی عمومی رائے ہونی چاہیئے، جو اُن کے بقول بحالی کے خلاف ہے۔

’’اگر ہم اُس طرح چلیں جیسا وہ (امریکہ اور اس کے اتحادی) کہتے ہیں تو یہ ہماری کمزوری ہو گی اور آنے والے دنوں میں بہٹ بڑا مسئلہ بن جائے گا۔‘‘

لیکن کئی ٹرک ڈرائیور نیٹو رسد کی ترسیل پر عائد پابندی اُٹھائے جانے کے حامی ہیں۔

’’سپلائی بالکل کھولنی چاہیئے اس سے ہم سب کا رزق چلتا ہے، اس کے بغیر پچھلے چھ مہینے سے ہمارا کوئی روزگار نہیں ہے۔‘‘

محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان کی جانب سے نیٹو قافلوں پر پابندی عائد کیے جانے سے قبل امریکی و اتحادی افواج کو رسد کی ترسیل لگ بھگ 7,500 ٹرک اور آئل ٹینکرز کے ذریعے کی جا رہی تھی، جن میں سے بیشتر کے مالکان و دیگر عملہ گزشتہ نومبر سے بے روزگار ہیں۔

حزب اختلاف کے علاوہ مذہبی اور دائیں بازو کی جماعتوں نے نیٹو سپلائی لائنز کی بحالی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ان کے کارکن نیٹو قافلوں کا رستہ روکیں گے، جب کہ افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بھی ٹرکوں پر شدت پسندوں کے حملوں کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

خیبر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر شاکر آفریدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس دفعہ سپلائی شروع ہو گی تو گاڑیوں، ڈرائیوروں اور دیگر عملے پر حملے زیادہ ہوں گے ... نقصان زیادہ ہو گا۔‘‘

پاکستان نے نیٹو کے لیے رسد سے لدے ٹرکوں پر بھاری محصولات کا بھی مطالبہ کیا ہے جس پر بات چیت جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران نیٹو قافلوں کی نقل و حمل کی وجہ سے ملک میں سڑکوں کے ڈھانچے کو تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔

XS
SM
MD
LG