رسائی کے لنکس

تحریک انصاف کا دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ خوش آئند: مبصرین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا نیٹو سپلائی روکنے کے لیے دھرنا شروع ہی سے اُن کے بقول’’متنازع‘‘ تھا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کی طرف سے نیٹو افواج کے لیے صوبے کے راستے سامان رسد کی احتجاجاً بندش کے تین ماہ بعد دھرنے ختم کرنے کے فیصلے کو سیاسی حلقے اور مبصرین خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کا نیٹو سپلائی روکنے کے لیے دھرنے دینے کا فیصلہ شروع ہی سے اُن کے بقول’’متنازع‘‘ تھا۔

’’لوگ یہ کہتے تھے کہ جب وہ (نیٹو افواج) آئی تھیں تو آپ (پاکستان) اُن کے ساتھ تھے، اور اب وہ جا رہے ہیں اور آپ ان کو روک رہے ہیں اس لیے (پی ٹی آئی کی نیٹو سپلائی روکنے کی) دلیل سمجھ سے بالاتر ہے خیبر پختونخواہ حکومت نے (خود کو) احتجاج سے الگ رکھا لیکن پارٹی کارکن ٹرک روک رہے تھے۔‘‘

راجہ ظفر الحق نے کہا کہ نیٹو افواج کے لیے رسد بندش سے اس کام سے وابستہ اور خود صوبہ خیبر پختونخواہ کو نقصان ہوا۔

تجزیہ نگار حسن عسکری رضوی کا کہنا تھا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے کی تحریک غیر موثر ہو گئی تھی ۔ ’’ایک تو یہ کہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے عمران خان کو ایک ’’فیس سیونگ‘‘ مل گئی کہ انھوں نے خود یہ احتجاج بند نہیں کیا بلکہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مانتے ہوئے ایسا کیا گیا۔‘‘

دفاع امور کے ماہر بریگیڈئیر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا تھا کہ دھرنے تو ڈرون حملوں کے خلاف شروع کیے گے لیکن (گزشتہ) دو ماہ میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا، اس لیے اُن بقول تحریک انصاف کا احتجاج غیر موثر ہو گیا تھا۔


’’اس دھرنے کی وجہ سے نیٹو سپلائی پر کوئی اثر نہں پڑا تھا کیونکہ کہ رسد چمن کے راستے جا رہی تھی…. زیادہ تر تو اس کا نقصان افغانستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو ہوا‘‘۔

رواں ہفتے ایک مقامی تاجر کی درخواست کی سماعت کے دوران پشاور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ کسی بھی فرد یا سیاسی جماعت کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے راستے افغانستان جانے والے سامان کے ٹرکوں کو روکنے یا ان کی تلاشی لینے کی اجازت نہیں اور ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔

جس کے بعد تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے رسد کی بندش کے لیے دھرنے ختم کیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG