رسائی کے لنکس

امریکی معافی کا مطالبہ ’غیر معقول‘ نہیں


پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر (فائل فوٹو)

پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر (فائل فوٹو)

پاکستان نے افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے رسد کی ترسیل بحال کرنے سے قبل نیٹو کے فضائی حملے میں اپنے 24 فوجیوں کی ہلاکت پرغیر مشروط امریکی معافی کے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ’’غیر معقول‘‘ نہیں ہے۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کابل میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر اس تاثر کی بھی نفی کی کہ پاکستان نے امریکہ کو نیٹو کے لیے رسد لے جانے والے قافلوں پرمحصولات کی بحث میں الجھا رکھا ہے۔

’’اگر پاکستانی فوجی غلطی سے 24 امریکی فوجیوں کو ہلاک کر دیتے تو کیا امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا؟ اس لیے میرے خیال میں اس واقعے پر معافی کا مطالبہ ہرگز غیر معقول نہیں ہے اور ہماری پارلیمان سلالہ جیسے واقعات پھر نہ دہرائے جانے کی یقین دہانی بھی چاہتی ہے۔‘‘

امریکی حکام معافی کے پاکستانی مطالبہ کو رد کرتے آئے ہیں کیونکہ وہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے مفرور جنگجوؤں کے خلاف آپریشن سے گریز کرنے کی پاکستان کی پالیسی پر نالاں ہیں۔

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک بار پھر کہا کہ ان کا ملک حقانی نیٹ ورک سمیت کسی عسکری تنظیم کی مدد نہیں کر رہا کیوں کہ یہ عناصر خود پاکستان پر بھی حملے کر رہے ہیں۔

امریکی ڈرون

امریکی ڈرون

پارلیمان کی سفارشات میں پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں کی بندش کے مطالبے کا بھی دفاع کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کا ملک ان کارروائیوں کے اہداف کا مخالف نہیں۔

’’لیکن یہ ہماری سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ہم جائز اہداف کے حصول کے لیے ناجائز ذرائع کے استعمال کے مخالف ہیں۔‘‘

پاکستانی وزیر خارجہ کے ایک روزہ دورہ کابل کا مقصد وہاں پر افغانستان کے ہمسایہ اور علاقائی ملکوں کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنا تھا۔

گزشتہ 10 سالوں کے دوران اتحادی افواج کے لیے خوراک، ایندھن اور’’غیر مہلک‘‘ فوجی ساز و سامان کراچی کی بندرگاہ پر اتارے جانے کے بعد ٹرکوں پر لاد کر قافلوں کی شکل میں طورخم اور چمن کے راستے افغانستان بھیجا جاتا رہا ہے۔

مہمند ایجنسی کی سلالہ چوکی پر مہلک حملے کے بعد پاکستان نے احتجاجاً نیٹو قافلوں کی آمد و رفت کے لیے اپنی سرحد بند کر دی تھی اور یہ بندش تاحال برقرار ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے پاکستان کی راہ داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اب جب کہ 2014ء کے آخر تک تمام غیر ملکی لڑاکا افواج کے انخلاء کا اعلان کیا جا چکا ہے اس راہ داری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا

ایک روز قبل امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان میں وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا تھا کہ متبادل راستوں سے نیٹو افواج کو رسد کی ترسیل پر ماہانہ 10 کروڑ ڈالر اضافی اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ان قافلوں کے لیے اپنی سرحد دوبارہ کھول دے گا۔

کابل میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے ایک بار پھر کہا کہ پُر امن افغانستان خود پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور امن کے حصول کے لیے اُن کا ملک ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی لائنز بند کرنے کے فوری فیصلے کے بعد افغانستان میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے درسی کتب سے لدے جو 207 کنٹینرز پاکستان میں روک دیے گئے تھے اُن کی نشاندہی ہوتے ہی اُنھیں افغانستان روانہ کر دیا گیا۔

چمن بارڈر پر نیٹو رسد سے لدے ٹرک (فائل فوٹو)

چمن بارڈر پر نیٹو رسد سے لدے ٹرک (فائل فوٹو)

مزید برآں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ افغان حکام نے اُنھیں جمعرات کو اُن درسی کتابوں کی فہرستیں بھی فراہم کر دی ہیں جو نیٹو کے لیے رسد لے جانے والے ٹرکوں پر لدی ہوئی تھیں مگر سرحد بند ہونے کی وجہ سے وہ تاحال کراچی کی بندرگاہ پر ہی موجود ہیں۔

اُنھوں نے افغان حکام کو یقین دلایا کہ فہرست میں درج کنٹینرز کی نشاندہی کر کے اُنھیں جلد از جلد افغانستان جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG