رسائی کے لنکس

پاکستان کا قدرتی حسن 'مری': آج کل یہاں قافلہ بہار خیمہ زن ہے

  • تحریر صدیقی

پاکستان کا قدرتی حسن 'مری': آج کل یہاں قافلہ بہار خیمہ زن ہے

پاکستان کا قدرتی حسن 'مری': آج کل یہاں قافلہ بہار خیمہ زن ہے

گہرے سبزرنگ کے قدآور، گھنے اور شاداب درختوں میں گھر ی 'ملکہ کوہسار مری' میں ان دنوں قافلہ بہار خیمہ زن ہے۔ ہزاروں فٹ اونچی وہ چوٹیاں جو دسمبر سے فروری تک برف سے ڈھکی ہوئی تھیں، اب برف کی چادر سے منہ باہر نکالے جھانک رہی ہیں۔ سڑکیں کھل گئی ہیں، سورج کی روپہلی کرنوں میں ایک درخت سے دوسرے درخت پر پرپھیلائے اڑتے ہوئے پرندوں نے بھی سخت سردی کے خاتمے پر خوشی سے چہچہانا شروع کردیا ہے۔ درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔ ڈھلوانوں پر طرح طرح کے پھول کھلنے کو بیتاب ہیں۔ کچھ دکاندار اور ہوٹل مالکان جو سخت سردی کے باعث میدانی علاقوں میں چلے گئے تھے وہ سیاحوں کے استقبال کی تیاری کے لئے اپنے آبائی شہرکو لوٹنا شروع ہوگئے ہیں۔

مری، پاکستان کے مشہور ہل اسٹیشنز میں سرفہرست ہے۔ یہ سطح سمندر سے سات ہزار فٹ سے بھی زائد بلندی پر واقع ہے۔ درحقیقت مری اور کہوٹہ پہاڑیاں ہمالیہ کی شاخیں ہیں۔ یہ پہاڑیاں پانچ متوازی سلسلوں پر مشتمل ہیں جن میں سے ایک خاص مری کا سلسلہ ہے ۔

مری کا سفر راولپنڈی کی ایک سڑک سے شروع ہوتا ہے۔ مری کی مناسبت سے ہی اس سڑک کا نام 'مری روڈ' رکھا گیا ہے۔ یہ سڑک اسلام آباد سے ہی کروٹیں بدلنے اور اور اوپر اٹھنے لگتی ہے۔ اس سڑک کے کبھی بائیں جانب تو کبھی دائیں جانب گہری گہری کھائیاں ہیں جو سبزے سے بھری ہوئی ہیں۔ مری جانے والے سیاح جیسے جیسے چڑھائی چڑھتے ہیں کھائیاں گہری سے گہری ہوتی چلی جاتی ہیں اور سیاح یہیں سے قدرتی حسن اور رعنائیوں کے دلدادہ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

راستے میں ہر قدم ٹھہرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہاں چھاوٴں ہر جگہ گھنی ہے۔ جا بجا شاہ بلوط، اوک، سلور اوک، سلکی اوک، دیودار، پلندر، بائٹر، چیل، برہمی کے قد آور اور قدیم ترین درخت اس ترتیب سے اگے ہوئے ہیں کہ قدرت کو داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ یہ راستوں کی ہریالی کا خاص سبب ہیں۔ اس کے علاوہ ہنگی، کائیں، زیتون، کنڈ، گل بنفشہ، گل سرنجان، گل ترنی یہاں کے جنگلی پھول ہیں جو قدرتی انعام کے طور پریہاں اگتے ہیں۔

سیاح جب ایسی ہی حسین وادیوں کا نظارہ کرتے، میلوں کا سفر طے کرتے مری کے مال روڈ پہنچتے ہیں تویوں لگتا ہے کہ گویا انسان صحرا سے جنت میں آگیا ہو۔ مری کا مال روڈ اس سڑک کا آخری کونا ہے۔یہ اونٹ کے کوہان سے ملتا جلتا مقام ہے۔ کوہ مری کی چوٹی پر کشمیرپوائنٹ سے پنڈ ی پوائنٹ تک کسی زلف دراز کی طرح پھیلا مال روڈ گویا مری کا دل ہے۔ کہنے والے اسے مری کا 'رخ زیبا'بھی کہتے ہیں۔یہی سڑک دائیں ہاتھ مڑتی ہوئی لارنس کالج کے رستے صنوبر کے بلندو بالا پیڑوں کے اوپر آویزاں چیئرلفٹ کے نیچے سے گزرتی ہوئی شنگریلا اور پنجاب ہاوٴس کے پہلو سے آگے نکل کر مال سے آملتی ہے۔

دوسری جانب سنی بینک سے آگے کلڈنہ روڈ کے سر سبزو شاداب مناظر کو اپنے دامن میں سمیٹی ہوئی ایک اور سڑک جھیکا گلی سے دائیں ہاتھ اوپر اٹھتی ہے اور گورنمنٹ کالج کے سامنے سے گزر کر کشمیر پوائنٹ کو چھوتی ہوئی مال روڈ سے بغل گیر ہوجاتی ہے۔ اس راستے سے اکثر ایبٹ آباد، نتھیاگلی اور مظفر آباد و آزادکشمیر کے سیاح مری پہنچتے ہیں۔ گویا ہر طرف سے راستے مری آکر 'مال روڈ' سے آملتے ہیں۔

مال روڈ مری کا وہ علاقہ ہے جہاں ملک و بیرون ملک سے آنے والے تمام لوگ آکر ٹھہرتے ہیں۔ یہاں لگ بھگ پانچ سو ہوٹل ہیں۔ ان ہوٹلوں میں زندگی کی ہر آسائش اور آرام موجود ہے۔ سردیوں میں ہیٹر اور گرمیوں میں ائیرکنڈیشنز موجود ہیں۔ اس کے باوجود کہ گرمیوں میں بھی یہاں کا موسم بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

مال روڈ پراور اس کے آس پاس ہر طرح کے ہوٹل موجود ہیں۔ عام ہوٹل، عالیشان ہوٹل یانسبتاً سستے ہوٹلز۔ گویا جس طرح کے ہوٹلز میں ٹھہرنے کی جیب اجازت دے اسی طر ح کے ہوٹلز یہاں موجود ہیں۔ ہوٹلز کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس کی بھی یہاں بھر مار ہے۔ آپ کو صبح کے ناشتے میں حلوہ پوری کھانے کی عادت ہو یا پراٹھے کھانے کی، ان ہوٹلوں پر بکثرت سہولیات موجود ہیں۔ پھر دوپہر اور رات کے کھانے کے لئے یہاں بریانی، قورمہ، بھنہ گوشت، قیمہ، مرغی، بکرے کے سالن، نہاری، حلیم، کھیر، دودھ جلیبی، ربڑی، چائے، کافی غرض کے کون سی چیز ہے جو مال روڈ پر نہ ملتی ہو۔

مال روڈ پہاڑی کی چوٹی پر واقع ہے اور اس کے چاروں طرف گھماوٴدارراستے نیچے اترتے ہیں۔یہ راستے مری کی مقامی آبادی تک بھی جاتے ہیں۔ یہاں مقامی افراد کی خریداری کے لئے گوشت کی مارکیٹیں بھی موجود ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی ایجنسیوں کے دفاتربھی۔ اس کے علاوہ رسائل و جرائد کے مکتب، لاہور اور کراچی کی طرح فرنیچر کے شورومزاور دیگر تمام اقسام کے ساز و سامان کی خریداری کے لئے بازار بھی یہیں موجود ہیں۔ سیاحوں کا آنا اس طرف کم ہوتا ہے۔ یہاں ہوٹل کم اور مقامی آبادی کے مخصوص طر ز کے مکانات ہیں۔

مال روڈ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو ملک کے مشہور ترین سیاستدان، ادیب، شاعر،کھلاڑی اور دیگر تمام اعلیٰ پیشہ ورشخصیات بھی مری کی سیر کرتے ہوئے مل جائیں گی۔ مال روڈ مری کا سب سے بارونق اور رات گئے تک کھلا رہنے والا مقام ہے۔ مری روڈ پر ہر قسم کے کپڑوں سے لیکر میک اپ کا سامان اور معمولی چیز سے لیکر ہاوٴس ڈیکوریشن تک کا ہر سامان ملتاہے لہذا ہر شخص کچھ نہ کچھ خریداری کرتا مال روڈ پرمل جاتا ہے۔بیشتر نئے شادی شدہ جوڑے مری آکر ہنی مون منانے کا پروگرام بناتے ہیں چنانچہ آئے دن مال روڈ پر نئی نویلی دلہنیں بھی سارے بناوٴ سنگار کے ساتھ عروسی ملبوسات اورخوشبووٴں میں لپٹی گھومتی نظر آجاتی ہیں۔

پھر بھور بن پرل کانٹی نینٹل جیسے ہوٹل، لارنس کالج اور کانونٹ آف جے اینڈ ایم جیسی تعلیمی درسگاہیں، گولف کورس،پوسٹ آفس، موبائل فون، اسپتال،مسجد، چرچ ہر چیز مری میں موجود ہے اور یوں لگتا ہے کہ گویا اسے کاسموپولیٹن شہر بننے میں کچھ ہی دیر باقی ہے۔

مری شہر کو جس موسم میں دیکھئے پر لطف اور نہایت حسین و جمیل نظر آتا ہے۔ موسم گرما ہو یا سرما، بہار ہو، خزاں ہو یا برسات۔ ہر موسم مری کے فطری حسن کو اور زیادہ خوبصورت بناجاتا ہے۔ اس کے پہاڑوں کی ڈھلوانیں انگنت گھنے اور سرسبزوشاداب درختوں اور طرح طرح کے پھولوں سے بھری پڑی ہیں۔ جب میدانوں میں درجہ حرارت ایک سو بیس فارن ہائٹ سے اوپر ہوجاتا ہے تب بھی مری کا درجہ حرارت اسی فارن ہائٹ سے زیادہ نہیں ہوتا ۔ گرمیوں میں یہاں موسم معتدل ہوتا ہے اور سوتی کپڑوں میں دن زیادہ لطف سے گزرتا ہے۔ شام کو فضاء میں قدرے خنکی بڑھ جاتی ہے تو لوگ سوئٹر اور ہلکے کوٹ پہن سیر کو نکل آتے ہیں۔

موسم بہار میں مری کاحسن کسی کنواری الہڑ دوشیزہ سے کم حسین نہیں ہوتا۔ موسم گرما میں یہ دوشیزہ دلہنوں کا سا لباس زیب تن کرلیتی ہے جبکہ برسات یہاں کا اور بھی زیادہ خوبصورت موسم ہے۔ اس موسم میں یہاں اس قدر زیادہ بارش ہوتی ہے کہ سال کے ڈیٹرھ سو دن ابر آلود ہوتے ہیں اور اگست میں 28 دن مینہ برستا ہے۔اسی مہینے میں ایک دن ایسا بھی ہوتا ہے جب کئی انچ بارش ریکارڈہوتی ہے۔ زیادہ بارش کی وجہ مری کے گھنے جنگلات اور سبزہ ہیں جو بادلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں جس سے چھاجوں مینہ برستا ہے۔

یہ مینہ ہی مری کے قدرتی حسن کو نئی زندگی بخشتا اور نیا جیون سینچتا ہے ۔ جنگلات سے آنے والی معطر ہوائیں سیاحوں اور یہاں کے مستقل شہریوں کے لئے صحت و مسرت کا پیغام لاتی ہیں۔ جنگلات میں ایسے ایسے خوشنما قطعات موجود ہیں جہاں انسان حسن قدرت کو برہنہ دیکھتا ہے۔ سوسوفٹ اور کہیں کہیں اس سے بھی زیادہ بلند درخت مری کا خاصہ ہیں۔ یہ درخت 53051 ایکٹر میں شاہانہ وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چشموں کی فروانی اور دیوار، کیل، چیل، پھلائی، رہن، بھرنگی، پالودار، شیشم اخروٹ اور کاوٴ کے درختوں کے دور تک پھیلے گھنے سائے ہر موسم میں یہاں آنے والوں کو وہ نظارہ دیتے ہیں جو عقل کو حیران اور نگاہوں کو خیرہ کردیتا ہے۔ درختوں کی بدولت ہی مری سارا سال تازہ ہواؤں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے ۔

جولائی کے وسط میں مون سون کا افتتاح ہوتا ہے۔ پیاسی چوٹیاں اور ڈھلوانوں پر گھنٹوں پانی پڑا رہتا ہے ۔جب مینہ کی بوندیں چھتوں پر جلترنگ بجاتی ہیں توگھر کے مکین ایک سرمدی کیف محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سورج کے ساتھ بادلوں کی آنکھ مچولی دن بھر جاری رہتی ہے ۔ جب موسم خراب ہوتو بادل گھر گھر آتے ہیں ۔کبھی آپ بادلوں کے ہجوم میں آجاتے ہیں تو کبھی بادل آپ سے نیچے ہوجاتے ہیں۔

اگست کے ساتھ ہی برسات رخصت ہوجاتی ہے اور فضاء صاف اور چمکیلی ہوجاتی ہے ۔ مری کا موسم خزاں بہار سے کم ولفریب نہیں ہوتا۔ خزاں اداسی اور خشکی لیکر یہاں نہیں آتی بلکہ پھول اور پھل لاتی ہے۔

ستمبر مری کا بہترین مہینہ ہوتا ہے۔ نواحی دیہاتوں میں سیب پکتے ہیں اور اخروٹ کی فصل اترتی ہے۔ مری کے بازار تازہ تازہ پھلوں سے لد جاتے ہیں۔ غروب آفتاب کا منظر دیدنی ہوتا ہے ۔

اکتوبر کی آمد کے ساتھ ہی سردی آجاتی ہے ۔سیاح اپنے شہروں کو واپس چلے جاتے ہیں اورشہر پر ویرانی برسنے لگتی ہے۔ مال روڈ کی بیشترد کانیں بند ہوجاتی ہیں اور گزرے مہینوں کے دلکش نظارے کوئی بھولا بسرا خواب لگتے ہیں۔

دسمبر کے آخر میں برف باری شروع ہوجاتی ہے جو فروری تک جاری رہتی ہے۔ درختوں کی چوٹیاں، ٹیلے، سڑکیں اور مکانات کی چھتیں کافوری لباس پہن لیتی ہیں اور مری کوئی جادو نگری دکھائی دینے لگتی ہے۔ تفریح پسند لوگ ایک بار پھر شہر کا رخ کرتے ہیں اور برف باری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سردیوں میں ملکہ کوہسار جب برف سے بنی ہوئی سفید چادراوڑھتی ہے تو اس کے حسن کی چمک نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے۔ اسے دیکھنے کے لئے دنیا بھرسے سیاح کشاں کشاں اس کی سمت دوڑے چلے آتے ہیں ۔

مری کے فطری حسن سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کے لئے سیاحوں کا مری سے ذرا باہر نکلنا بھی ضروری ہے۔ مری کی مشرقی سمت کا لوئر ٹوپہ، رینج اور پتریاٹہ سے نظارہ کرنا بالخصوص رات کے وقت ایک نہایت دلکش اور خوشنما منظر پیش کرتا ہے۔ اسی طرح چھانگلہ گلی، خیرہ گلی، اور خانسپور سے شہر کی مغربی سمت کا منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

مری شہر کے چاروں طرف پھیلے ہوئے قدرتی حسن سے مالا مال مقامات اپنی مثال آپ ہیں۔ براستہ کوہالہ آزاد کشمیر جانے والے دونوں راستے، لوئر ڈیو ل روڈ اور کوہالا برائڈل روڈ۔ سچ پوچھیں تو مری کے بہت سے دلکش مقامات اس راستے پر پائے جاتے ہیں جو مری کو براستہ نتھیاگلی، ایبٹ آبادسے ملاتا ہے۔ باڑیاں، خیرہ گلی، چھانگلہ گلی، ایوبیہ، خانس پور، ڈونگا گلی، کابال باغ، باڑہ گلی ایسی جگہیں ہیں جو اپنے دامن میں فطرت کی لازوال خوبصورتیوں کے نہ ختم ہونے والے خزانے سمیٹے ہوئے ہیں۔ چیڑ اور دیودار کے سدابہاردرختوں سے آراستہ پہاڑی چوٹیاں اس سارے علاقے کے حسن کو چار چاند لگادیتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG