رسائی کے لنکس

وکیل انعام الرحیم کے بقول ملزمان کو رواں سال اپریل میں سزا سنائی گئی تھی اور جیل حکام کے پاس بھی ملزمان پر عائد الزامات اور سزا کی دستاویز موجود نہیں ہے۔

پاکستان کی بحریہ کے پانچ اہلکاروں کو مختلف الزامات کے تحت نیوی ٹربیونل کی طرف سے سزائے موت سنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں لیکن اس بارے میں سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سزا پانے والوں میں شامل بحریہ کے سب لیفٹیننٹ حماد کے والد نے وکیل انعام الرحیم سے رابطہ کر کے اطلاع دی کہ انھیں اپنے بیٹے کی سزائے موت کا علم چند روز قبل اس وقت ہوا جب وہ ان سے ملنے کراچی کی سینٹرل جیل گئے۔

انعام الرحیم نے منگل کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان ملزمان پر عائد کیے گئے الزامات اور مقدمے کی کارروائی کی تفصیلات سے انھیں آگاہ نہیں کیا گیا جس کے لیے وہ پاکستانی بحریہ سے رابطہ کر رہے ہیں۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق ان اہلکاروں کو ستمبر 2014ء میں کراچی میں نیول ڈاک یارڈ پر حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر شدت پسند گروپ کے لیے بحریہ کا ایک جنگی جہاز اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تاہم وکیل انعام الرحیم، جو کہ فوج کے سابق کرنل ہیں، کا دعویٰ تھا کہ ملزمان کو اپنی صفائی کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا۔

ان کے بقول ملزمان کو رواں سال اپریل میں سزا سنائی گئی تھی اور جیل حکام کے پاس بھی ملزمان پر عائد الزامات اور سزا کی دستاویز موجود نہیں ہے۔

انعام الرحیم نے بتایا کہ اسی معاملے پر ان سے ایک اور ملزم کے والد نے بھی رابطہ کر کے بتایا کہ انھیں بھی اپنے بیٹے کی سزا اور الزامات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے پاکستانی بحریہ سے اس ضمن میں رابطہ کرنے پر تاحال جواب موصول نہیں ہوسکا ہے۔

XS
SM
MD
LG